سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے سرپرائز اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا معاہدہ احسن اقبال کی صوابدید تھی اور میں فیض آباد دھرنا کے معاہدے کے حق میں نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے کے حوالے سے عدالت نے بلایا تو کیا باتیں ہوئیں بتادوں گا اور مجھے جماعت یا عہدے کی خواہش نہیں ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پولیس چاہتی تو فیض آباد دھرنے کے مظاہرین کو ہٹا سکتی تھی لیکن تین چار سو بندوں کو پولیس نہیں ہٹا سکی۔ پارلیمان دھرنے کی مار ہے تو جج اور عدلیہ بھی ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی، عسکری اور عدلیہ کی قیادت کو ایک ساتھ بیٹھنا ہو گا۔ آج حالات غیر معمولی ہیں اور ملکی قیادت کا امتحان ہے۔ کوئی سیاسی جماعت عوام کی تکلیف کی بات نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات نہ کرانا زیادہ انتشار کا باعث ہے اور 3 بڑی پارٹیوں کی وجہ سے نئی جماعت کی جگہ بنی۔ راستے کا تعین کیے بغیر انتخابات بے مقصد ہوجائیں گے اور ری ایمرجنگ پاکستان کا پلیٹ فارم خرابیوں کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
