Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نواز شریف کی وطن واپسی کے فیصلے سے نگران حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں، نگران وزیراعظم

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے فیصلے سے نگران حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ مسلم لیگ ن سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے، پاکستان ایک ترقی پذیر جمہوریت ہے جہاں آئینی انصرام موجود ہے اور یہاں عدالتی طریقہ کار کی ایک اپنی اہمیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی شخصیت کے بارے میں جو بھی کوئی فیصلہ ہوگا وہ عدالتی عمل کے نتیجے میں ہوگا، اگر عدالتی عمل کے نتیجے میں عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملتی ہے تو وہ حصہ لیں گے لیکن اگر نہیں تو میں کیسے اس پابندی کو ختم کر سکتا ہوں؟ آصف زرداری ہوں، نواز شریف یا عمران خان سب کو اپنے مقدمات کے لیے قانونی حل تلاش کرنے ہوں گے۔

انوار الحق نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کے فیصلے سے نگران حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں، نواز شریف عدالتی فیصلے کے تحت ملک سے باہر گئے اور انہیں وطن واپسی پر کچھ قانونی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جبکہ شریف واپس آ کر سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو انہیں کئی قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن جنوری میں انتخابات کے حوالے سے اپنے انتظامات کافی حد تک مکمل کر چکا ہے ، حلقہ بندیوں سمیت دیگر معاملات پر کافی پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ سکیورٹی اور پولنگ بوتھس کے حوالے سے بھی انتظامات حتمی مراحل میں ہیں اور انہیں کوئی شبہ نہیں کہ جس تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا اس پر انتخابات ہو جائیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ووٹنگ کی شرح کم نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہوں، موسم ایک عامل ضرور ہوتا ہے لیکن ملک کے زیادہ آبادی والے خطوں سندھ اور پنجاب میں موسم کے اثرات اس نوعیت کے نہیں ہوتے ہاں البتہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں موسم کے تھوڑے اثرات ہو سکتے ہیں، الیکشن کمیشن آئین میں متعین اپنی حدود کے حساب سے ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔

غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نگران وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کسی بھی قسم کے مہاجرین کو نہیں نکال رہے بلکہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو نکال رہے ہیں۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انوار الحق نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں آر ایس ایس کی سوچ اور مسئلہ کشمیر حائل ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آنی چاہیے لیکن حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو فی الحال اس کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دیتے۔

انوار الحق نے کہا کہ ہندوستان جنوبی ایشیا میں اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے، بھارت میں مسلمانوں ، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امکان بارے سوال کے جواب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ اس بارے کوئی سوچ بچار نہیں ہو رہی، اسرائیل ایک غاصب ریاست تھی اور ہے جبکہ ہم فلسطینیوں کے حقوق اور فلسطینی مہاجرین کی ان کی زمینوں پر واپسی کے حامی ہیں۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا ایک مسئلہ سکیورٹی ہے اور دیگر میں وسائل کی کمی اوربعض انتظامی خامیاں شامل ہے، گزشتہ روز کوئٹہ میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں گھوسٹ سکولوں اور بنیادی مراکز صحت کی نشاندہی کی گئی، ان سے کچھ لوگوں نے مالی فائدہ اٹھایا لیکن بلوچستان کے عوام متاثر ہوئے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version