Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وفاق کے ذمہ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے خیبرپختونخوا حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا

وفاق کے ذمہ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے خیبرپختونخوا حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

محکمہ خزانہ کی دستاویز کے مطابق ہر ماہ وفاق سے ماہانہ ملنے والے 60 سے 65 ارب روپے تاخیر کا شکار ہیں۔ تنخواؤں، پنشن اور نان سیلری بجٹ میں ماہانہ 10 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے تو تنخواؤں اور پنشن پر 54 ارب اور نان سیلری بجٹ پر 5 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں، قرضوں کی ادائیگی پر 3 ارب اور ترقیاتی کاموں پر 7 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز، صحت کارڈ، بی آر ٹی اور ایم ٹی آئی اسپتال پر اخراجات سے خزانے پر بوجھ بڑھ گیا ہے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کو 4 ارب، صحت کارڈ کی مد میں ماہانہ 3 ارب روپے دے رہے ہیں، ڈبلیو ایس ایس پی کو 50 کروڑ روپے دینے سے مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، بی آر ٹی کو ماہانہ 30 کروڑ سے مالی خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔

جاری کردہ دستاویز کے مطابق وفاق سے خیبرپختونخوا حکومت کو فنڈز ملنے کے بعد تنخواہوں، پنشن اور نان سیلری یا اسپتالوں صحت کارڈ اور بی آر ٹی کو فنڈ جاری کر سکے گی، کے پی حکومت صرف قرضوں یا ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز جاری کر سکتی ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ

20 جون 2023 کو نگران خیبرپختونخوا کے آئندہ مالی سال 2023- 24 کے 4 ماہ کیلئے 462 ارب 16 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی تھی۔

نگران وزیراعلیٰ کے پی کے مشیر برائے خزانہ نے بجٹ بریفنگ میں بتایا تھا کہ نگران حکومت کے پاس جو آئینی اختیارات ہے اس کے مطابق صوبے کے امور کو چلانے کے لئے صرف چار ماہ کے لئے 462 ارب 16 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جس میں اخراجات جاریہ کے لئے 350 ارب روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لئے 112 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔

مشیر خزانہ حمایت اللہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یکم جولائی سے 31 اکتوبرتک تمام منصوبوں کے فنڈزمختص کیے گئے ہیں۔ بندوبستی اضلاع کے لئے 92 ارب روپے سے زائد کی بجٹ کی منظوری دی گئی جبکہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تخمینہ 20 ارب روپے سے زائد لگایا گیا۔

بجٹ میں گریڈ ایک سے 16 ملازمین کی تنخواہ میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا اور گریڈ 17سے 22 کےملازمین کی تنخواہ میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ پنشن میں ساڑھے17 فیصد اضافہ کیا، مزدور کی کم سے کم ماہانہ اجرت 26 ہزار سے بڑھا کر 32 ہزارروپے کر دی گئی، صوبائی ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصداضافہ کیا گیا  اور خصوصی ملازمین کے سفری الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ کیا۔

مشیر خزانہ کے مطابق محکمہ پولیس اور جیل خانہ جات ملازمین کا ماہانہ راشن الاونس 681 سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کردیا گیا، بی آر ٹی اور صحت انصاف کارڈ میں گزشتہ سال کے بجٹ میں جتنے پیسے رکھے گئے ہیں وہی برقرار رکھا جائے گا، تاہم نگران کابینہ نے نئی بھرتیوں اور نئی گاڑیوں کے خریداری پر پابندی عائد کردی ہے، جبکہ فائیو اسٹار ہوٹلز میں سیمینار اور ورکشاپ اور بیرونی ملک علاج کرانے پر پابندی ہوگی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مشکل ترین حالات کے باوجود نگران حکومت نے کوئی قرض نہیں لیا، نگران حکومت کا نئے ٹیکسز لگانے کا کوئی اختیار نہیں لیکن وفاق کے ذمے صوبے کے جو 850 ارب کے بقاجات ہے اس میں اب تک نیٹ ہیڈل پروفیٹ کی مد میں 5 ارب روپے ادا کردی گئی ہے، باقی بقایاجات کی حصول کے لئے جلد ہی صوبے کا ایک نمائندہ جرگہ وزیر اعظم کے پاس لے کر جائیں گے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version