Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قوم کو جھوٹے خواب دکھانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا، نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم کو جھوٹے خواب دکھانے کا سلسلہ بند کرنا ہو گا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کی معاشی مشکلات کو سمجھتے ہیں، آپ سے ہمیشہ مشاورت کی ہے اور مشاورت سے ہی آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بنائی پالیسیوں سے پاکستان کی کاروباری برادری نے بھرپور عمل کیا، ہماری بنائی پالیسیوں کو بھارت نے اپنایا اور معاشی ترقی حاصل کی، 1990 کے بعد سے ہم نے کاروبار کو روایتی دائروں سے آزادی دلائی، دیگر ممالک بھی ان مراحل سے گزرے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ہم نے پالیسیاں بنائیں تو خزانہ بھرنا شروع ہوگیا، انڈسٹری میں آنے والے پیسے کے بارے میں نہ پوچھنے کی پالیسی ہونی چاہیے، 1990 کے دور کی ہماری پالیسیاں اور ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے ہوتا۔

ن لیگ کے قائد نے کہا کہ عوام کو مہنگائی، غربت سے نجات دلانا ہماری ذمہ داری اور فرض ہے، اگر لوگ ترقی مانگتے ہیں، تعلیم اور صحت مانگتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے اور یہ سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انکا کہنا تھا کہ 2013 سے 2017 کے دوران پاکستان دنیا کی چوبیسویں معیشت بن چکا تھا، ہم نے چار سال ڈالر کو 104 پر باندھ کر رکھا، ہمارے دور کی ترقی اور پالیسی جاری رہتی تو ڈالر آج چالیس یا پچاس روپے کا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے تھے تو اسلامی ممالک پاکستان کو اپنا رکھوالا سمجھنے لگے تھے، آج یہ حالت ہو گئی کہ ایک ایک ارب ڈالر کے لئے محتاج ہو گئے ہیں، یہ کلہاڑی ہم نے خود اپنے پیروں پر ماری ہے، یہ برے حالات ہمارے اپنے فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے۔

نواز شریف نے کہا کہ ہمارے دور میں سوا چھ فیصد پالیسی ریٹ تھا، آج 22 فیصد پر ہے، 22 فیصد پالیسی ریٹ سے کون کاروبار کر سکتا ہے، ہم نے خود اپنی پارلیمنٹ اور وزراء اعظم کے ساتھ زیادتیاں کیں، پھر ملک کس کے حوالے کر دیا گیا، روپیہ، معیشت اور سب نظام تباہی کا شکار ہوگیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے دور میں 1000 روپے جس کا بل آتا تھا، آج 15000 ہزار بل آ رہا ہے، پانچ پانچ گنا قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، آج سب سے سستی کرنسی پاکستان کی ہے، پاکستان کی کرنسی کو مٹی میں ملا دیا گیا، اتنی مہنگائی میں عوام کیسے زندہ رہیں گے، کاروبار کیسے چلے گا، قوم کو جھوٹے خواب دکھانے کا سلسلہ بند کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا تھا، ہم ملک کو ترقی دیتے ہیں اور جلاوطنی اور قید بھی کاٹتے ہیں، 2022 میں حکومت میں آنے پر تیار نہیں تھے لیکن پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانا ضروری تھا، شہباز شریف صاحب کے مستعفیٰ ہونے کی تقریر تیار تھی، میں نے تقریر دیکھ لی تھی، ہم نے دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، پاکستان کے مفاد کے لئے بے خوف ہو کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ بات پاکستان کی ہو تو ہم فیصلوں کے ذاتی مفاد پر نقصان کی پرواہ کبھی نہیں کرتے، یہی ہم میں اور دوسروں میں فرق ہے، پاکستان کو بچانے کے لئے جو بھی کرنا پڑے کرتے آئے ہیں، کرتے رہیں گے، معیشت کے فیصلے دلیری اور بہادری کے ساتھ کرنے ہوں گے عوام کو ریلیف دینا ہوگا، گھریلو صارفین کے لئے بجلی سستی کرنے پڑے گی، اُن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، ہیلتھ کارڈ دیا تھا ، غریب کا علاج اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version