سابق وزیر اعظم و قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام کو مہنگائی جیسے دلدل سے باہر نکال کر دم لیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تعینات امریکی سفیر اپنے وفد کے ہمراہ جاتی امرا پہنچے اور نواز شریف سے ملاقات کی جس کے دوران دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
ملاقات میں پاکستان کی سیاسی صورتحال، پاک امریکہ تعلقات، آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں، تجارت، معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور باہمی دلچپسی کے امور پر گفتگو کی گئی۔
نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی ہمارا منشور ہے، عوام کو مہنگائی جیسے دلدل سے باہر نکال کر دم لیں گے، ملک کو مسائل کے دلدل سے باہر نکالنا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے ظلم و ستم سے شہید کیا جا رہا ہے، فلسطین خصوصا غزہ میں محاصرہ کر کے قتل عام پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
نواز شریف نے اس موقع پر امریکی سفیر سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف جنگ بندی کی جائے بلکہ انسانی و طبی سہولیات کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ملاقات کے بعد امریکی سفیر جاتی امرا سے روانہ ہو گئے۔
واضح رہے کہ نواز شریف وطن واپسی کے بعد غیر ملکی سفرا سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے تو حلف کا تقاضا پورا کروں گا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کسی جماعت کا نہیں ہر پاکستانی کا ترجمان ہوں، دنیا نے پناہ گزینوں کا بوجھ بانٹنے میں پاکستان کی مدد نہیں کی، غیر قانونی پناہ گزینوں کی واپسی کا فیصلہ مناسب اقدام ہے، معیشت اب پناہ گزینوں کا بوجھ مزید اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان دراندازی روکنے میں ناکام رہے، یقین دہانی کے باوجود ٹی ٹی پی کے خلاف اقدام نہیں لئے گئے، افغان طالبان کو شواہد بھی دیئے گئے، کابل سے رابطے کا فقدان نہیں، طالبان عملی اقدام لیں۔
ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے غزہ کی صورتحال پر عالمی فورمز پر اپنے موقف کا بھرپور اعادہ کیا ہے، مسئلہ فلسطین کا حل صرف دو ریاستی منصوبہ ہے، غزہ میں ظلم پر عالمی رہنمائوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے تو حلف کا تقاضا پورا کروں گا، سیاست دان اور انتظامیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈر مل کر کام کریں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
صدر مملکت کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنا الیکشن کمیشن اور حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت نے لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ صدر کے پاس انتظامی اختیارات نہیں ، توقعات اپنی جگہ لیکن کوئی ایسا قدم نہیں لے سکتا جس کی آئین اجازت نہ دے جہاں بھی مسائل دیکھوں گا ان کی نشاندہی کرتا رہوں گا جبکہ انتخابات کی تاریخ پر بھی کوئی کوتاہی نہیں برتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن میں شمولیت کا فیصلہ عدالت میں ہے، بحیثیت صدر عدلیہ پر دانستہ اعتماد رکھتا ہوں، 9 مئی کی مذمت کرچکا ہوں، تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔
ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ عدلیہ، انتظامیہ اور سیاسی رہنما انتخابات کے بروقت انعقاد پر متفق ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انتخابات 8 فروری کو ہوں گے، اتفاق رائے سے الیکشن تاریخ پر سپریم کورٹ کو سراہتا ہوں۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے قیام کی تحریک سے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے، مسئلہ فلسطین کا حل صرف دو ریاستی منصوبہ ہے، غزہ میں ہونے والے ظلم پر عالمی رہنمائوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
