اسلامی ممالک کی پہلی پاکستانی منتخب خاتون وزیراعظم ، قائد انقلاب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 16 ویں برسی آج انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ ان کی جائے شہادت پرمنائی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی 16ویں برسی27دسمبر کو منائی جائے گی اور اس سلسلے میں ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام تعزیتی اجتماعات اور مختلف تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953 میں پیدا ہوئیں اور محترمہ بے نظیر ذوالفقارعلی بھٹوبیگم نصرت بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی تھیں ۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر بھی رہے لیکن انیس سو انہتر میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔
بے نظیر بھٹو نے ہارورڈ یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے برطانیہ میں جلا وطنی کی زندگی گزاری ۔ 1988 میں ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح کامیابی حاصل کی اور دسمبر 1988 میں بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
بے نظیر بھٹو 17 فروری 1987 میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو کے تین بچے جن میں بلاول بھٹو زرداری، بختاور بھتو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری شامل ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو 7 اگست 1990 کو صدر اسحاق خان نے بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا جس کے بعد 1993 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں ۔ 1996 میں پیپلز پارٹی کے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن کے باعث بے نظیر کی حکومت کو پھر سے برطرف کر دیا۔
واضح رہے کہ 19اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں جہاں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئیں تھی ۔
