نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے لیے کھڑا رہے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے وزارت خارجہ میں جاری سفیروں کی کانفرنس کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔
نگران وزیر خارجہ نے عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان کے لیے سفارتی چیلنجز اور مواقع کے بارے میں کانفرنس کی اہمیت کا خاکہ پیش کیا۔
جلیل عباس جیلانی نے اس موقع پر خارجہ پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں دفتر خارجہ کے اینکرنگ کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے خارجہ پالیسی کو موجودہ دور کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے ویژن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ملک کو ترقی پسند، معاشی طور پر مضبوط ریاست کی جانب رہنمائی کرنی چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ایسی پالیسی جو اپنے لوگوں کی سماجی و اقتصادی بہبود کو ترجیح دیتی ہو، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد پوری دنیا میں امن اور باہمی فائدہ مند تعلقات کے لیے ہونا چاہیے، پاکستان بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے لیے کھڑا رہے گا، اقتصادی سفارت کاری کو مرکزی دھارے میں لانا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کی ہمیشہ حمایت کرے گا۔
وزیر اعظم کاکڑ نے کانفرنس کو خطے اور دنیا بھر میں ہونے والی گہری تبدیلیوں کے پس منظر میں بروقت اور متعلقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے اس کانفرنس میں ہونے والی بات چیت سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم تجاویز ملیں گی۔
