سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے عام انتخابات سے قبل اہم اعلان کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے گزشتہ روز ہوئی سائفر کیس کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا ہے، جس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کیلئے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل مقرر کردیے گئے ہیں۔
آج راولپنڈی اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکلاء پھر غیر حاضر تھے، جس پر جج نے عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے وکلاء صفائی کو تیسری بارحاضری یقینی بنانے کی مہلت دے دی، اس موقع پر شاہ محمود قُریشی نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل سے فائل چھین کر دیوار پر دے ماری۔ جج نے شاہ محمود قُریشی کے غیر مناسب رویے پر وارننگ جاری کر دی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سرکاری وکلاء کا ڈرامہ نہیں چلے گا، اس طرح سے ٹرائل کی کیا ویلیو رہ جائے گی۔
اس موقع پر جج نے ریمارکس دیے کہ میرے لیے آسان تھا کہ میں ڈیفنس کا حق ختم کر دیتا، میں نے پھر بھی اسٹیٹ ڈیفنس کا حق دیا، کیس کی وجہ سے مجھے یہاں جیل آنا پڑ رہا ہے۔
میں آرڈر کر کر کے تھک گیا ہوں مگر آپ کے وکیل نہیں آتے، جج نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ٹرائل میں رکاوٹیں ہیں تو ضمانت کینسل کر سکتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کا بھی مذاق اڑایا گیا، جیل سے باہر نکلتے ہی ایک اور کیس میں اٹھا لیا گیا۔
جج نے شاہ محمود قریشی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو لٹکانے کا کیا فائدہ ہے؟ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ جیل میں کوئی خوشی سے نہیں رہتا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اپنا وکیل پیش کرنا چاہتا ہوں سرکاری وکلاء پر اعتبار نہیں، شاہ محمود قریشی نے جج مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کے نامزد کردہ وکلاء سے ڈیفنس کروایا جا رہا ہے، اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو چکا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جن وکلاء پر ہمیں اعتماد ہی نہیں، وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے؟ ہم تو نہ ان کو جانتے ہیں، نہ انہیں کبھی دیکھا ہے، یہ کیا ہمارا دفاع کریں گے۔
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ جتنا آپ کو ریلیف دیا جا سکتا تھا میں نے دیا، سائفر فراہمی کی بات ہو یا وکلاء سے ملاقات، آپ کی درخواستیں منظور کیں۔
سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آپ نے تو ملاقات کا آرڈر کیا لیکن کرائی نہیں گئی، آپ نے فیصلہ سنانا ہے تو ایسے ہی سنا دیں۔
