عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کا ایک اور بڑا فیصلہ آگیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ڈی جی جینڈر نگہت صدیق کو ترجمان الیکشن کمیشن مقرر کر دیا ہے، اس سے قبل سید ندیم حیدر الیکشن کمیشن کے ترجمان تعینات کیے گئے تھے۔
دوسری جانب عام انتخابات کے لئے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل ہو چکی ہے۔ قومی و صوبائی کے 859 حلقوں کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کر لی گئی ہے۔ ملک بھرمیں بیلٹ پیپرز کی ترسیل آج مکمل کر لی جائے گی۔
پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ بیلٹ پیپرز اور انتخابی سامان کی ترسیل اپنے اپنے علاقوں کو راونہ کر دی گئی ہیں۔ سامان کی ترسیل کے لئے پرنٹنگ کارپوریشن کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان نے چھپائی سے متعلق الیکشن کمیشن کو باضابطہ آگاہ کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد سامان متعلقہ ریٹرننگ افسران کو روانہ کیا جارہا ہے۔ پرنٹنگ کارپوریشن نے اسلام آباد خیبرپختونخوا اور نارتھ ریجن کے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کی۔
دوسری جانب ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ درجنوں حلقوں میں دوبارہ بیلٹ پیپر چھاپنے کے سبب ضمنی انتخاب کے لیے خریدا گیا کاغذ بھی استعمال کرنا پڑا۔ 2018 ء کے مقابلے میں رواں برس عام انتخابات کے لیے 194.75 فیصد زیادہ کاغذ استعمال ہوا۔
ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 2018 کے مقابلے میں 2024 کے انتخابات کے لیے ووٹ کے تناسب میں 54.75 فیصد اضافہ ہوا ۔ 2018 کے انتخابات میں امیدواروں کی تعداد 11ہزار 677 تھی۔ 2024 کے انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 18 ہزار 107 امیدواروں حصہ لے رہے ہیں۔
آئندہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 5 ہزار 254اور صوبائی اسمبلیوں کے 12 ہزار 853 امیدوار شامل ہیں۔2018 کے انتخابات کے لیے 22 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے۔2024 کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپرز طبع کیے گئے ہیں۔
2018 کے انتخابات میں 800 ٹن خصوصی فیچرز والا کاغذ استعمال ہوا۔2024 کے انتخابات کے لیے خصوصی فیچرز والا 2170 ٹن کاغذ استعمال کیا جا رہا ہے۔
عام انتخابات کے علاوہ ضمنی انتخاب کے لیے بھی واٹر مارک والا کاغذ خریدا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے پر کئی حلقوں میں دوبارہ بیلٹ پیپرز چھاپنے پڑے۔ درجنوں حلقوں میں دوبارہ بیلٹ پیپر چھاپنے کے سبب ضمنی انتخاب کے لیے خریدا گیا کاغذ بھی استعمال کرنا پڑا۔
قومی اسمبلی کے لیے سبز اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے سفید رنگ کے بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔2018 میں ووٹ کی پرچی کے ہرکالم میں 8 امیدواروں کے نام درج کیے گئے تھے۔2024 کے انتخابات میں امیدواروں کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب ہر کالم میں دس نام درج کیے گئے ہیں۔
