عام انتخابات 2024 کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے سابق کمشنر لیاقت علی چٹھہ الزامات پر بنائی گئی الیکشن کمیشن کی کمیٹی بھی چیلنج کر دی ۔
انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کی تعیناتی کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام فارم 47 کالعدم قرار دیئے جائیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کالعدم قرار دی جائے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کے لیے وزارتِ داخلہ کو جوڈیشیل کمیشن بنانے کا حکم دیا جائے، جوڈیشیل کمیشن ملک بھر کے الیکشن نتائج اور راولپنڈی سمیت کنسالیڈیشن کرے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی تشکیل روک دی جائے۔
انہوں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کوئی بھی احکامات جاری کرنے سے روکا جائے۔
