اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ بتدریج ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بجٹ 25-2024 کی تیاریاں جاری ہیں، ایف بی آر نے آئندہ بجٹ میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی رعایتیں اور چھوٹ مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی۔
ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں امپورٹڈ ٹریکٹرز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ کمرشل امپورٹرز پر ودہولڈنگ ٹیکس لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ کمرشل درآمد کنندگان کی خریداریوں پر ودہولڈنگ پر ٹیکس چھوٹ ہے، آئندہ مالی سال بجٹ میں کمرشل درآمد کنندگان کی آمدن پر انکم ٹیکس ودہولڈنگ لگانے کی تجویز ہے، کمرشل امپورٹرز پر 1 فیصد ٹیکس لگانے سےسالانہ 25 ارب روپے تک ریونیو متوقع ہے۔
ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ٹریکٹرز اور کیڑے مار ادویات پر ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے جبکہ ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے مجموعی طور پر آئندہ مالی سال میں 30ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹریکٹرز اور کیڑے مارادویات پر ٹیکس استثنیٰ کے خاتمے سے زرعی لاگت مزید بڑھ جائے گی، رواں سال ٹریکٹرز اور کیڑے مارادویات کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ بتدریج ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
