لاہور: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں، سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کریں گے۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف نے ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن عزم استحکام کسی کے کہنے پر نہیں ہورہا، یہ ہماری ضرورت ہے، آپریشن ضرب عضب، ردالفساد کے بعد امن قائم ہوا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن ہوگیا مگر پاکستان میں امن قائم نہیں ہوا، یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوں گے، دہشت گردوں کی واپسی تباہی لے کر آئی، افغانستان نے تعاون کا اظہار کیا مگرٹھوس پیشرفت نہیں ہوئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام خاص کر کے پی، بلوچستان میں ہوگا، دہشت گردی پر قابو نہ پایا گیا تو اثرات ملک بھرمیں ہوں گے، اس معاملے پر میڈیا اور عدلیہ کی سپورٹ کی بھی ضرورت ہے، اس آپریشن کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں، دہشت گردی پر قابو پانا فوج نہیں دیگر اداروں کا بھی کام ہے، تمام اداروں کو آپریشن کو سپورٹ کرنا چاہیے۔
انکا کہنا تھا کہ جے یوآئی کے تحفظات کوایڈریس کیا جائے گا، علی امین گنڈاپور نے کہا تھا آپریشن کی حمایت کریں گے، جے یو آئی، اے این پی، پی ٹی آئی کی تشویش کو دور کریں گے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کی بڑھتی لہر کے پیش نظر آپریشن کا فیصلہ ہوا، آپریشن عزم استحکام کا مقصد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر2016میں سانحہ اے پی ایس ہوا تھا، سانحہ اے پی ایس کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، آج ملک میں پہلے جیسی صورتحال نہیں ہے، آج پاکستان کا کوئی علاقہ نوگو ایریا نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ آپریشن عزم استحکام نیشنل ایکشن پلان کا تسلسل ہے، اس آپریشن سے متعلق ابہام پیدا کرنا مناسب نہیں، آپریشن عزم استحکام کا پچھلے آپریشنز سےموازنہ کیا جارہا ہے، بلوچستان اور کےپی میں حکومت کی رٹ موجود ہے، پہلے ہونے والے آپریشنز کی نوعیت مختلف تھی۔
