وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب اور سب سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے والا شہر ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مائی کراچی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی چیمبر کی طرف سے مائی کراچی نمائش 2024 کا افتتاح میرے لئے باعث فخر ہے، بطور وزیراعلیٰ سندھ ہمیشہ مائی کراچی تقریب میں شرکت کی ہے کراچی صرف ایک شہر نہیں، یہ ہماری پوری قوم کی لائف لائن ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مائی کراچی نمائش صوبائی دارالحکومت کی اہم ترین تقریبات میں سے ایک ہے، جبکہ یہ نمائش صوبائی دارالحکومت کی اہم ترین تقریبات میں سے ایک ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مائی کراچی نمائش کی بنیاد 2004 میں مرحوم سراج قاسم تیلی نے رکھی، ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کراچی میں 80 کی دہائی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی، بدامنی 14-2013 میں جاری رہی، اور کراچی کو دنیا کا چھٹا خطرناک ترین شہر قرار دیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ سندھ حکومت نے کراچی میں امن قائم کیا، ہم نے کراچی کی رونقیں بحال کی ہیں اور حالات کو مزید بہتر بنایا تاکہ کراچی کو امن کا گہوارا بنایا جا سکے۔
سید مراد علی شاہ نے کہاکہ شہر میں مسائل ہیں لیکن ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، شہر میں مسائل ہیں لیکن ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کو شکست دی ہے۔ شہر سے دیگر جرائم کا بھی مکمل خاتمہ کریں گے، کراچی، میری نظر میں قوم کی ترقی کا حقیقی انجن ہے جہاں ہماری برآمدات کا 54 فیصد حصہ ہے۔
سید مراد علی شاہ نے مائی کراچی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کراچی میرے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے جو ہمارے ملک کی خوشحالی کا ضامن ہے، جانتا ہوں کہ سندھ سے ملک کی 70 فیصد سے زائد گیس نکلنے کے باوجود صوبے کی صنعتوں کو گیس کی قلت کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صنعتیں آر ایل این جی چارجز ادا کرنے پر مجبور ہیں جو کہ دانشمندی نہیں ، صنعتوں کے مسائل کو اجاگر کر رہا ہوں اور ان کے حل ہونے تک پیچھا کرتا رہوں گا، جانتا ہوں کہ بجلی کا ٹیرف بہت زیادہ ہے اور صنعتیں تیزی سے اپنی صلاحیت کھو رہی ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ صنعتیں بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں، ہم بہت جلد سندھ میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی بنانے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جانتا ہوں کہ اس سال کے وفاقی بجٹ کی وجہ سے تاجروں اور صنعت کاروں کیلئے کافی مسائل پیدا ہوئے ہیں، وفاقی حکومت سے اپیل ہے کہ ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے تاجروں کے مسائل کو حل کرے، میں کراچی کے تجارتی و صنعتی شعبوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہوں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میرا مقصد برآمدات میں شہر کی شراکت کو 54 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک بڑھانا ہے، یقین دلاتا ہوں کہ کراچی میں تجارت و صنعت کو متاثر کرنے والا ہر مسئلے کا حل ہماری حکومت کی ترجیح ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عہد کرتا ہوں کہ کے سی سی آئی کی طرف سے اجاگر کیے گئے تمام مسائل کو اولین ترجیح پر حل کرنے کا عہد کرتا ہوں، شکایات سننے کیلئے تیار ہوں اور یقینی بناتا ہوں کہ جو بھی مسائل ہیں ان کو فوری حل کیا جائے گا۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آئیے ہم مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ کراچی کی صنعتی ترقی نہ صرف دوبارہ شروع ہو بلکہ پھلے پھولے، ہم سب مل کر رکاوٹوں کو دور کریں گے اور روشن مستقبل کی طرف راستہ تلاش کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ آپ سے مطالبہ ہے کہ برآمدات کو بڑھانے، تجارت کو فروغ دینے اور زیادہ ٹیکس محصولات پیدا کرنے کی کوشش کریں، باہمی کاوشوں سے ہی ہم اپنے صوبے بالخصوص ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی کو آگے بڑھا سکتے ہیں، جبکہ متعلقہ محکموں کو تاجروں کے مسائل کے مؤثر طریقے سے فوری حل کرنے کی ہدایت کرچکا ہوں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بجلی کےمسئلےکاحل موجود ہے، سندھ انرجی کاباسکٹ حب ہے، 70 فیصد گیس پیداہوتی ہے، کراچی کی ترقی سے پورا پاکستان منسلک ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پورٹ کا فائدہ حاصل ہے،ا ٓپ سمندرکو اٹھاکر کہیں نہیں لےجاسکتے، اگریہ ممکن ہوتا تویہ بھی کرلیتے، ملک میں سب سے سستی بجلی تھرکےکوئلے سے بن رہی ہے، ہمیں گیس دی جائے سستی بجلی پیدا کریں گے، نوری آباد پاورپلانٹ لگانے پر آج بھی نیب پیشیاں بھگت رہاہوں۔
واضح رہے کہ افتتاحی تقریب میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں، تاجر برادری کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
