Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بانی پی ٹی آئی نے اپنے لوگوں کو گندی زبان، گندی سوچ اور گندہ کلچر دیا، شرجیل میمن

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے لوگوں کو گندی زبان، گندی سوچ اور گندہ کلچر دیا۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نیا نظام نافذ ہوچکا ہے چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جو بہت بڑا قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جڈیشل ایکٹیوزم کے ذریعے چند جج صاحبان نے من مانیاں کیں، کچھ جج صاحبان نے اپنی اتھارٹی کا غلط استعمال کیا اور پسند نا پسند پر فیصلے کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم مشکل مرحلا تھا لیکن چیئرمین بلاول بھٹو نے ہر جماعت کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی، پی ٹی آئی نے ترامیم کے مسودے پر اعتراض نہیں کیا لیکن انکی مجبوری تھی کہ اندر بیٹھے شخص کو فیس سیونگ چاہیئے تھی۔

 شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے عام لوگوں کو انصاف ملیگا، اب عوام کو مقدمات کے فیصلے کا تیس یا پنتیس سال انتظار نہیں کرنا پڑیگا، صوبوں کا ہمیشہ شکایت رہتی تھی کہ انہیں مساوی شیئر نہیں ملتا تھا، چھبیسویں ترمیم کے بعد صوبوں کی مساوی نمائندگی ہوگی۔

 سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں نجی گاڑیوں پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ایمرجنسی لائیٹس پر سخت ایکشن ہوگا، گاڑیوں پر کلر شیشے اور غلط نمبر پلیٹس کیخلاف سخت ایکشن ہوگا، سندھ میں اسلحے کی سرے عام نمائش پر سختی سے ایکشن ہوگا، کل سے سندھ بھر میں سختی سے ایکشن شروع ہوگا، کوئی بااثر شخص بھی ہو اُسکو نہیں بخشا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں بہتر ماحول میں بہتر طریقے سے جوڈیشل ماحول آگے چلے، سندھ حکومت نے کچھ کڑے اور سخت فیصلے کیے ہیں، کل سے صوبے بھر میں سختی سے عملدرآمد ہوگا، وہ سرکاری گاڑی جو پولیس کی لائٹ لگا کر چل رہی ہو، ایکشن ہوگا، کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف ایکشن ہوگا، گاڑیوں میں اسحلہ کی نمائش نہیں کی جائے گی، گاڑیوں میں گن مین کھلے عام اسلحہ لیکر نہیں بیٹھیں گے، ایسا کرنے والوں کے خلاف سختی سے ایکشن ہوگا

ان کا کہنا تھا کہ کل لندن میں قاضی فائز کےساتھ پی ٹی آئی کارکنان نے جو کیا اس کی مذمت کرتا ہوں، یہ حقیقتاً ایک مافیا ہیں، یعنی اگر آپ میرے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے تو ہم آپ کا جینا حرام کردینگے، ہمارے اون لائن اور آف لائن گنڈے آپ کو ٹارچر کرینگے، یہ انداز مافیا کا ہے جس پر پی ٹی آئی چل رہی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آئین کی جو دھجیاں ثاقب نثار نے اڑائی ویسا کسی نے نہیں کیا، لیکن اگر ثاقب نثار میرے سامنے آئے ہم ادب اور احترام سے ملیں گے، جو جج ہماری حکومت کیلئے مشکل بنا، ہم اسکے لئے ادب کا دامن نہیں چھوڑیں گے، لیکن کل پی ٹی آئی والوں نے اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت کی، کوئی جج اپنی بیوی کے ساتھ باہر جارہا ہے تو آپ اس کی تذلیل کرینگے؟ کیونکہ اس جج نے آپ کے حق میں فیصلہ نہیں کیا، تنقید کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے، اچھے الفاظ میں بھی تنقید کرسکتے ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے لوگوں کو گندی زبان، گندی سوچ اور گندہ کلچر دیا، کل جن بچوں نے قاضی فائز کے ساتھ جو کیا اس میں ان کا قصور نہیں، ان بچوں کو غلط بہکایا جارہا ہے، ان لوگوں سے کہوں گا اپنی عقل وشعور استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس ثاقب نثار ذاتی طور پر میرے خلاف تھے انہوں نے ججز کو بول کر میرے خلاف فیصلے کرائے، لیکن میں آج بھی ثاقب نثار سے بدتمیزی کی جگہ ادب سے سلام کروںگا، ججز کی راستے میں جاتے ہوئے بے عزتی کرنا سیاست نہیں، بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عمل اخلاقی طور پر انتہائی گری ہوئی چیز ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی انتہائی معتبر شخصیت ہیں ان کے ساتھ بدتمیزی انتہائی نامناسب عمل ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان کی شناخت ہیں ان سے یہ رویا مناسب نہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version