وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ منشیات کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
صوبائی وزیر شرجیل میمن نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منشیات معاشرے کا بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے، کوکین، چرس، ہیروئن سے بھی زیادہ بڑا چئلنج کرسٹل اور آئس ہے، کرسٹل اور آئس چھوٹے چھوٹے علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کیخلاف سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے قانون پاس کیا، ہمارا یہ فرض ہے کہ مل کر منشیات کا خاتمہ کریں، منشیات کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، منشیات کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات کی لعنت کا خاتمہ کر کے رہیں گے، کرسٹل اور آئس کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں، منشیات کی ترسیل جہاں چل رہی ہے وہاں کی نشاندہی کریں، لیاری کے ایم پی اے نے بتایا اسپتال ہے وہاں منشیات چل رہی ہے، اسمبلی اجلاس کے بعد ایم پی اے کے ساتھ خود جا کر کارروائی کریں گے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ منشیات کیخلاف ہمیں میڈیا کی مدد بھی درکار ہے، میڈیا نشاندہی کرے کہاں کہاں منشیات فروخت ہوتی ہے، ایم پی اے سجاد احمد نے لیاری میں منشیات فروشی کی نشاندہی کی ہے، اجلاس کے بعد خود فورس اور سجاد احمد کے ساتھ لیاری جاؤں گا۔
