چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر وفاق المدارس و جامعات دینیہ پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ امید رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان مدارس سے متعلق کسی بھی قسم کی قانون سازی کرتے وقت ان 18 ہزار 6 سو مدارس اور ان میں زیر تعلیم 22 لاکھ سے زائد طلباء کے مستقبل کا خیال رکھے گی۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر وفاق المدارس و جامعات دینیہ پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے ساتھ اب تک 18 ہزار چھ سو مدارس اپنے آپ کو منسلک کر چکے ہیں۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ان کی تعداد سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھی پیش کی جاچکی ہے، حکومت کسی صورت اپنی کسی سیاسی مصلحت کی خاطران لاکھوں طلباء اور ہزاروں مدارس کا مستقبل خراب نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد تنظیمات مدارس کی جانب سے اپنے مدارس کی رجسٹریشن کے لئےجس نظام کا مطالبہ کیا جارہا ہے ، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اگرچہ ایک ملک کے اندر نظام تعلیم ایک ہی ہونا چاہئے لیکن جب باقی اسکولوں اور کالجوں کیلئے مختلف نظام تعلیم موجود ہیں تو مدارس کیلئے دو نظام یا دو ادارے متعین ہوجائیں گے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مزید یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے مطالبہ ہے کہ وہ اس بات کا احساس اور ادراک رکھیں ملک کے اندر اس وقت دینی مدارس مجموعی طور پر 15 بورڈز موجود ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں وزیر اعظم کیلئے 5 بورڈز کی بات سننا ضروری ہے وہاں 10 بورڈز کی بات سننا بھی ضروری ہے، یہی عدل و انصاف اور قانون کا تقاضا ہے جسے کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔
