صوبائی وزیرسعیدغنی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسائل مذاکرات کےذریعے حل کرتی ہیں۔
صوبائی وزیرسعیدغنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کازوے پل پرگارڈررکھنے کا کام شروع ہوچکاہے، پل کا کام تیزی سے جاری ہے، تکمیل کی مدت 2 سال تھی لیکن اس سے پہلے مکمل ہوجائےگی۔
سعید غنی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے درخواست کی ہے پل کی فنڈنگ وقت سے پہلےکرادیں، جلد نیا پل بنا کرجام صادق پل کوتوڑدیا جائے گا، اس پل کےنیچے ملیرایکسپریس وے ہے، جس کا نام شہید ذوالفقارعلی بھٹوایکسپریس وے رکھاگیاہے۔
انہوں نے کہا کہ ملیرایکسپریس وے مارچ میں قائد آباد تک کھول دیاجائے گا، ملیرایکسپریس وے پرموٹرسائیکل، رکشہ پرپابندی ہوگی، ٹریفک کی روانی میں آسانی ہوگی۔
سعید غنی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں شاہراہ بھٹو کو شاہ فیصل تک، جبکہ دوسرے مرحلے میں قائد آباد تک افتتاح ہوگا، رفتار کو سختی سے مانیٹر کیا جائے گا یہ دنیاں کی بہترین سڑکوں کی طرح ہوگی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موٹروے کے ٹول ٹیکس اور ایکسپریس وے میں فرق ہے، شہید بھٹو ایکسپریس وے میں عوام کے پاس چوائس ہے، اگر شہری اچھی سڑک استعمال کریں گے تو فیول بچے گا۔
سعید غنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ منصوبا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر ہے جنہوں نے پیسے لگائے ہیں اُن کو ٹول ٹیکس کے ذریعے وصول بھی کرنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کھلنے کے بعد ہیوے ٹریفک کا پریشر شہر سے کم ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ لیاری ایکسپریس وے پر بڑی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔
سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کی نمائندگی گی کرتی ہے، جہاں سمجھتے ہیں سندھ کے لوگوں سے زیادتی ہے وفاق سے بات کرتے ہیں، کراچی کے لوگ ہمیں ووٹ دے رہے ہیں ایم کیو ایم سے سرٹیفکیٹ کی ہمیں ضرورت نہیں
انہوں نے کہا کہ کے پی میں قیام امن سب سے بڑاچیلنج ہے، کے پی حکومت کی توجہ اسلام آبادپرچڑھائی پرہے، کوئی بھی اختلافات ہوں ان کا حل مذاکرات میں ہی ہے، خدشہ ظاہرکیاتھابانی پی ٹی آئی مذاکرات کوآگےبڑھنےنہیں دیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات رکے توپی ٹی آئی خود کو بہت نقصان پہنچائےگی، خیبرپختونخوا حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی، بانی پی ٹی آئی مذاکرات میں مداخلت کررہےہیں، سیاسی جماعتیں مسائل مذاکرات کے ذریعےحل کرتی ہیں۔
سعیدغنی نے مزید یہ بھی کہا کہ کوئی بھی اختلاف ہو،حل مذاکرات میں ہی ہے، ایم کیوایم نے ماضی میں شہرکے ساتھ جوکیا بتانے کی ضرورت نہیں۔
