بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت کی سیاست جھوٹ، منفی پروپیگنڈے اور انتشار پر کھڑی ہے، بانی پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ اگر وہ اور اس کی جماعت اقتدار میں نہیں تو ملک کے خلاف وہ پروپیگنڈا کیا جائے جس سے ملک کی معاشی و اقتصادی اور امن و عامہ کی صورتحال اتنی خراب ہو جائے یا اسے ایسے پیش کیا جائے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرونی دنیا پر یہ تاثر ابھرے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے اور بانی پی ٹی آئی کو خود کو صحیح ثابت کرنے کا جواز مل سکے۔
اڈیالہ جیل سے آئے روز مایوس کن ، انتشار پسند اور ریاست مخالف بیانات بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آنا ایک وطیرہ بن گئے ہیں۔سائفر بیانیہ سے لیکر 26 نومبر تک کی فائنل احتجاجی کال تک اگر بانی پی ٹی آئی کے بیانیوں کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بہتر ہوتی ساکھ، مضبوط ہوتی معیشت اور امن و امان کی صورتحال کو منفی انداز میں پیش کرنا ہی نظر آتا ہے۔
یہی حقائق بانی پی ٹی آئی کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی ملک دشمنی کو عیاں کرتے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کے پس پشت غیر ملکی اور صہیونی طاقتوں کو آشکار کرتے ہیں جن کے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کھیل رہا ہے۔
بانی پی ٹی آئی بار بار القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں میڈیا کو صفائیاں پیش کرتا ہے مگر عدالت میں شواہد بھی پیش نہیں کرتا اور حیلے بہانوں سے تاخیری حربے بھی استعمال کرتا ہے جس کا ادراک اب عدالتوں کو بھی ہونا شروع ہو گیا ہے۔
اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے بانی پی ٹی اور بشریٰ بی بی نے مل کر حسب معمول مذہبی کارڈ استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ القادر ٹرسٹ کو اب حدیث کی تعلیم سے جوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
القادر ٹرسٹ کا اگر حقائق پر جائزہ لیا جائے تو سیاسی پشت پناہی اور زبردست تشہیر کے باوجود سابق وزیر اعظم بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی القادر یونیورسٹی میں 4 سال کے دوران صرف 200 طلبا نے داخلہ لیا کیا اس پر بانی پی ٹی آئی کوئی توجیہہ پیش کرسکتا ہے۔۔۔؟ یا اس کم تعداد کو بھی ریاست کی سازش قرار دیکر خود بری الذمہ ہو جائے گا۔۔۔؟
سازش کی گردان الاپتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے انتخابی نشان پر بھی سابق چیف جسٹس اور اعلیٰ عدلیہ پر الزامات عائد کئے تاہم یہ بتانے سے گریز کیا کہ الیکشن کمیشن کے بار بار اصرار اور تنبیہ کے باوجود
وہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہا اور جوانتخابات کرائے بھی وہ بھی متنازعہ قرار پائے تھے۔قواعد کے مطابق جو جماعت انٹراپارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہتی ہے اس سے انتخابی نشان کی واپسی کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہی ہوتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے وہ فیصلے جو پی ٹی آئی کے حق یا سہولت کاری کے ذریعے ملے ہوں وہ درست اور جو خلاف ہوں وہ غلط قرار پاتے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بار بار یہ خودساختہ دعویٰ کرنا کہ میں کوئی ڈیل نہیں کروں گا کِھسیانی بِلّی کَھمبا نوچےکے مترادف ہے جبکہ دوسری جانب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی جانب سے واضح الفاظ میں کسی بھی ڈیل کے بیانیہ کو کئی بار مسترد کیا جا چکا ہے۔بانی پی ٹی آئی یہ بیانیہ اپنے جرائم کی ہزیمت چھپانے کیلئے بار بار دہراتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بار بار معیشت کو ہدف بنانا اور بیرونی ملک یہ تاثر دینا کہ پاکستان کی معیشت کمزور ہے بنیادی طور پر اصل ملک دشمنی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے ہر حربہ استعمال کیا کہ پاکستان معاشی طور پر غیر مستحکم ہو جائے ، آئی ایم ایف کو قرضہ پروگرام رکوانے کیلئے خطوط ، پاکستان کو سری لنکا بنانے کا پروپیگنڈا، ایس آئی ایف سی کیخلاف پروپیگنڈااور ترسیلات زر روکنے کی کوششیں کرلیں مگر سب میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے، سٹاک ایکسچینج میں روز ریکارڈ بن رہے ہیں، امریکا جیسے ممالک کے ساتھ برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 10 سالہ کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک (سی پی ایف) کی منظوری دے دی، جس کے تحت ملک کو 40 ارب ڈالرز دینےکا وعدہ کیا ہے ۔
بانی پی ٹی آئی کو شاید معلوم نہیں کہ شرح سود میں کمی، ترسیلات زر میں اضافے اور افراط زر میں کمی کی وجہ سے جولائی تا دسمبر 25-2024 کے دوران کاروں، لائٹ کمرشل وہیکلز (ایل سی ویز)، پک اپ اور وینز کی فروخت 54 فیصد اضافے کے ساتھ 60 ہزار 676 یونٹس رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 39 ہزار 453 یونٹس تھی۔دسمبر 2024 میں گاڑیوں کی فروخت 69 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ہزار 820 یونٹس رہی جو کہ ماہ بہ ماہ 3 فیصد کم ہے۔
