Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان میں رہ جانے والے ہتھیار پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں رہ جانے والے ہتھیار پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مراکش کشتی حادثے پر تحقیقات ہورہی ہیں، سوڈان میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیلی مظالم کا نوٹس لے، جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان اور سربیا کے درمیان مشاورت کا دورہ کل منعقد ہو گا، پاک قطر دوطرفہ مشاورت 5 فروری کو دوحہ میں ہو گی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پاک قطر مشاورتی دور میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، بیرونی امداد روکے جانے کے حوالے سے پاکستان صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر سے متعلق آگاہ ہے۔

شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی 90 روزہ پابندی کے بعد امدادی سرگرمیاں جلد بحال ہوں گی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزراء کو ذمہ داری دینا وزیراعظم کا استحقاق ہے، امریکہ نئے صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاک ای یو شراکت داری کا محض ایک پہلو ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای یو کے خصوصی ایلچی کا دورہ پاکستان بھی معمول کا حصہ ہے، افغانستان میں رہ جانے والے ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہوتے ہیں، ہتھیاروں کے حوالے سے بنیادی ذمہ داری عبوری افغان حکومت کی ہے، عبوری افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

ان کا کہنا تھا بھارتی حکومت کا بابری مسجد کی شہادت میں ملوث شخصیت کو اعزاز دینا تشویشناک ہے، 770 پاکستانی قیدی اس وقت بھارتی جیلوں میں ہیں، سرزمین فلسطین فلسطینیوں کی ہے، مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی حل ہے، غزہ کے لوگوں کو بے دخل کرنے کی باتیں انتہائی پریشان کن ہیں۔

شفقت علی خان نے مزید کہا کہ نائب وزیراعظم کے دورہ بنگلہ دیش اور انڈونیشئین صدر کے دورہ پاکستان کے معاملات ابھی طے پا رہے ہیں، بھارت اور امریکہ کے تعلقات ان کا آپسی  معاملہ ہے، پاکستان کے ٹرمپ انتظامیہ سے رابطے ہیں، امریکی بزنس مین کی رائے ان کا ذاتی خیال ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version