یواین ای پی اور اسپار 6 سی نے پنجاب کو عالمی کاربن مارکیٹ کا حصہ بنانے کے لیے تکنیکی و مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔
یواین ای پی اور اسپار 6 سی اور جرمن آفیشلز پر مشتمل وفد نے سینئر صوباٸی وزیرمریم اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں ماحولیاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے مابین لکھوڈیرھ لینڈ فل کو کارآمد کاربن کریڈٹ میں بدلنے پراتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں پنجاب حکومت اور بین الاقوامی اداروں میں گرین انویسٹمنٹ اور پائیدار ترقی، جبکہ پنجاب میں کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ کے لیے مضبوط فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
یواین ای پی اوراسپار 6 سی نے پنجاب میں ماحول دوست توانائی منصوبوں کے لیے مالی و تکنیکی مدد پر زور دیا، اس کے علاوہ پنجاب حکومت اور عالمی اداروں نے کاربن مارکیٹ کو ترقی دینے کے لیے علم و مہارت کے تبادلے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں یواین ای پی ، اسپار 6 سی اور پنجاب حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آرٹیکل 6 منصوبے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ معیشت کو بھی مضبوط بنائیں گے، کاربن کریڈٹ منصوبے پنجاب میں گرین انویسٹمنٹ کو فروغ دیں گے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب میں کاربن کریڈٹ سسٹم سے مقامی معیشت اور کمیونٹیز کو بھی فائدہ پہنچے گا، اس کے علاوہ پنجاب میں آرٹیکل 6 کے تحت پائیدار ترقی کے لیے مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی راہیں کھلیں گی، نجاب میں کاربن کریڈٹ سسٹم سے مقامی معیشت اور کمیونٹیز کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
سینٸرصوباٸی وزیر مریم اورنگزیب نے وفد کی آمد اورتعاون کے اعلان پر شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے صوبے میں کاربن کریڈٹ پروگرام کے ذریعے پنجاب کو عالمی سطح پر ماحولیاتی لیڈر بنانے کی جانب سفر کاآغاز کردیا ہے، لکھوڈیرھ پنجاب حکومت کا پہلا ایسا پراجیکٹ ہے جو ارٹیکل 6 پیرس ایگریمنٹ کے تحت شروع کیاجارہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر گزشتہ ایک سال سے کاربن کریڈٹ پروگرام پر ای پی اے مصروف عمل ہے، جبکہ کاربن کریڈٹ پروگرام سے آلودگی میں کمی، زرمبادلہ میں اضافہ، اور گرین انڈسٹری کو فروغ ملےگا۔
اس پروگرام سے شجرکاری، گرین ٹیکنالوجی، اور عالمی سرمایہ کاری ایک ساتھ ہوگی، کاربن کریڈٹ پروگرام سے صاف ہوا، پائیدار معیشت،عالمی منڈی میں پاکستان کی شمولیت،گرین انڈسٹری کی ترقی، روزگار کے نئے مواقع، اور عالمی ساکھ میں بہتری آئےگی۔
الیکٹرک اورسولر انقلابی اقدامات کے بعداب لینڈ فل ساٸیٹس پر موجود میتھین گیسز کے خاتمے کے لیے گراس روٹ لیول پر کام شروع کیاگیا ہے۔
ایسے ماحول دوست درجنوں پراجیکٹس کی نشاندہی کرلی گئی ہیں جن سے آئندہ کاربن کریڈٹس اورخطیر زردمبادلہ حاصل کیا جائے گا۔
پنجاب میں 6 آرٹیکل منصوبوں کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔
کاربن مارکیٹ میں شفافیت اور پائیداری یقینی بنانے کے لیے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی ماہرین کی معاونت حاصل، جبکہ پنجاب میں آرٹیکل 6 کے تحت منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے عالمی ادارے حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کام کریں گے۔
