ملتان کے علاقے نواب پور میں آموں کی ایک بڑی چوری کی واردات نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں ایک منظم کارروائی کے دوران رات کی تاریکی میں چار مختلف باغات سے تقریباً 150 من آم چوری کر لیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ 27 اور 28 جون کی درمیانی شب پیش آیا، تاہم چوری شدہ آموں کی مالیت 9 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد مقامی افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص، عاقب کلرو کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈی ایچ اے تھانے کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور موقع سے بڑی مقدار میں آم برآمد کیے۔
تاہم معاملہ اس وقت متنازع ہو گیا جب پولیس نے صرف 25 من آم چوری ہونے کا مقدمہ درج کیا جبکہ دیگر تین متاثرین کی جانب سے دعویٰ کیے گئے 125 من آم کو ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا گیا، اس بے ضابطگی پر باغ مالکان نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
باغ مالکان اور علاقہ مکینوں نے ایس ایچ او ڈی ایچ اے پر الزام عائد کیا کہ وہ متاثرین پر “معاملہ رفع دفع” کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور قانونی کارروائی سے گریز کر رہے ہیں، ہم انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: آم کھانے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ انہیں ملزمان کی جانب سے سنگین دھمکیاں موصول ہورہی ہیں، جس پر انہوں نے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست بھی کر دی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف زرعی اجناس کی چوری جیسے سنگین مسئلے کو نمایاں کرتا ہے بلکہ پولیس کی کارکردگی، شفافیت اور جانبداری پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ایسی وارداتوں کی روک تھام اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
