حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے متبادل منصوبہ بندی پر کام شروع کر دیا ہے۔
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق یورو بانڈز اور متحدہ عرب امارات کو واجب الادا ادائیگیوں کے بعد زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے نئی تجاویز زیرِ غور ہیں اس سلسلے میں سعودی عرب سے مزید ڈپازٹ حاصل کرنے کے لیے باضابطہ درخواست بھی کی گئی ہے۔
مزید برآں مؤخر ادائیگی پر تیل کی سہولت کے تحت ادائیگی کے حجم کو دوگنا کرنے اور اس کی مدت بڑھانے پر بھی بات چیت جاری ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ سولر پراجیکٹس، ٹیکسٹائل، سیاحت، لیدر، فارماسیوٹیکل اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 5 کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سعودی ڈپازٹ کو بھی ممکنہ دفاعی تعاون پیکج کا حصہ بنانے کی تجویز زیرِ غور ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا مجموعی طور پر سعودی عرب کے ساتھ تقریباً 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کے پیکج پر بات چیت جاری ہے۔
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ جون تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں، جبکہ دسمبر تک انہیں 20 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے مرکزی بینک کی جانب سے مارکیٹ سے بھی ڈالرز کی خریداری کی گنجائش موجود ہے جبکہ مرکزی بینک نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 24 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدے۔
