وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر ملک بھر میں جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس سلسلے میں کراچی میں تین ماہ کے دوران متعدد کامیاب کارروائیاں کی گئی۔
(ڈریپ) کراچی نے (ایف آئی اے) کے ساتھ مل کر فروری تا مئی 2026 کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں 10 بڑی مشترکہ کارروائیاں کی جن میں غیر قانونی ادویات کی تیاری میں ملوث نیٹ ورکس اور جعلی ادویات کے کارخانے پر چھاپے مارے گئےاور غیر رجسٹرڈ انجیکشن تیار کرنے والے مراکز کو بے نقاب کیا گیا جس کی تفصیل یہاں پیش کی جارہی ہے۔
18 فروری 2026 کو کلفٹن کراچی میں واقع عباس میڈیکوز پر ایک مشترکہ چھاپہ مارا گیا جبکہ اسی روز دوسری کارروائی پلاٹ نمبر Z-80، بہادر یار جنگ پی ای سی ایچ ایس میں کی گئی ایک اور کارروائی 20 فروری کو ہیون سٹی، احسن آباد، گڈاپ ٹاؤن کی گئی۔
اسی طرح 18 اپریل 2026 کو جوڑیا بازار کراچی میں یوسف چیمبرز کے غیر لائسنس یافتہ احاطے، 20 اپریل 2026 کو کلفٹن کراچی میں واقع عرفان میڈیکوز، 30 اپریل کو علی زی گارڈن ملیر پر چھاپہ مارا گیا جبکہ 3 مئی کو گلشنِ رومی سوسائٹی ملیر کینٹ میں ڈریپ کراچی کی اعلیٰ سطحی ٹیم نے کارروائی کی۔
یہ کارروائی ایف آئی اے سے موصول ہونے والی قابلِ اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اور متعلقہ مجاز اتھارٹی کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔
چھاپے کے دوران مختلف بین الاقوامی برانڈز کی غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ جعلی ادویات کی کثیر مقدار برآمد کی گئی۔ تمام اسٹاک فارم-2 کے تحت ضبط کر لیا گیا، فارم-3 کے تحت نمونے اکٹھے کیے گئے اور ایف آئی آر درج کروائی گئی۔
سینٹرل ڈرگ لیبارٹری (سی ڈی ایل) کراچی نے بعد ازاں تصدیق کی کہ برآمد شدہ مصنوعات غیر رجسٹرڈ ہیں مقدمہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کے لیے ایف آئی اے کو بھیج دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
ڈریپ کراچی دفتر کی جانب سے ناجائز دواسازی تجارت کے خلاف مسلسل ریگولیٹری کارروائیاں جاری ہیں تاکہ صارفین کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ان چھاپوں کے دوران ٹیموں نے بڑی مقدار میں غیر رجسٹرڈ ادویات، ٹراماڈول جیسے کنٹرولڈ ڈرگز کا خام مال قبضے میں لینے کے ساتھ مشینری، پیکنگ میٹریل اور جعلی برانڈز ضبط کیے جبکہ متعدد ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ غیر قانونی ادویات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے متعدد مقامات پر چھاپوں کے دوران جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات برآمد کر کے ضبط کی جا چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مکروہ کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا معیاری اور محفوظ ادویات کی بلا تعطل فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ مصطفی کمال
