کربلا میں نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد میں آج ملک بھر میں یوم عاشور انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔
واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت ہے ظلم اور بربریت کے خلاف اس کی مثال رہتی دنیا تک دی جاتی رہے گی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے رفقا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شبیہ ذوالجناح کے جلوس نکالے گئے۔
کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوکر روایتی راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر ختم ہوا۔ کوئٹہ میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس شہداء چوک علمدار روڈ سے برآمد ہوا۔ جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا علمدار روڈ پر ہی اختتام پذیر ہوا۔
راولپنڈی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ حفاظت علی شاہ تیلی محلہ سے برآمد ہو گا۔ جلوس روٹ کو سیل کر کے شرکا کے داخلہ کے لیے ایک راستہ مختص کردیا گیا ہے۔
لاہور میں یوم عاشور کا جلوس اپنے روایتی راستوں پر گامزن تھا۔ جلوس آج کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کے راستوں میں عزاداروں کے لیے سبیلیں اور نیاز کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
فیصل آباد میں 10 محرم کا مرکزی جلوس عزاخانہ شبیر سے برآمد ہوا ۔ ضلع بھر میں سینکڑوں مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔
ملتان میں عاشورہ کا مرکزی جلوس امام بارگاہ ہیرا حیدریہ سے برآمد ہوا جو کہ بعد نماز مغرب امام بارگاہ شاہ شمس تبریز پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
یوم عاشور کی مناسبت سے ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، تمام اہم شہروں میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر خصوصی چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں۔
ملک بھر میں جلوسوں کے روٹ پر غیر ضروری آمدورفت کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا تھا جبکہ حساس علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اور دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کے تحت اسلحے کی نمائش پر پابندی رہی۔
شام غریباں
اس وقت جلوسوں کے اختتام کے بعد شام غریباں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں ذاکرین واقعہ کربلا کے بعد پیش آنے والے حالات کو بیان کر رہے ہیں جس کے بعد عزادار غم حسین میں سینہ کوبی کے بعد گھروں کو روانہ ہو جائیں گے۔
