Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ادارہ نورِ حق کی زمین پر تنازع، کے ایم سی اور ملکیت کے دعوؤں پر سٹی کونسل میں بحث

اگر میں غلط ثابت ہوا تو استعفیٰ دوں گا اور اگر نجمی عالم کا مؤقف غلط ثابت ہوا تو انہیں استعفیٰ دینا ہوگا، سیف الدین ایڈووکیٹ

کراچی سٹی کونسل کے اجلاس میں جمشید کوارٹرز میں واقع ادارہ نورِ حق کی زمین کی ملکیت پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ کے درمیان اختلاف سامنے آگیا جب کہ زمین سے متعلق دستاویزات بھی پیش کردی گئیں۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پلاٹ نمبر 503 اور 504 کراچی میونسپل کارپوریشن کی ملکیت ہیں، جمشید کوارٹرز میں موجود کے ایم سی کی زمین ادارہ نور حق کے پاس ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ مذکورہ زمین رفاہی مقاصد کے لیے دی گئی تھی تاہم اب وہاں سیاسی سرگرمیاں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زمین کی لیز میں تبدیلی اور لیز کے معاملات کے ایم سی نے کیے کیونکہ اس کی ملکیت کراچی میونسپل کارپوریشن کی ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما نجمی عالم نے کہا کہ ادارہ نور حق رفاہی کاموں کے لیے الخدمت کو الاٹ کیا گیا تھا تاہم اب وہاں سیاسی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ دو بنگلے تھے جو ان کے مطابق خریدے گئے تھے اور ان کے پاس اس حوالے سے ریکارڈ بھی موجود ہے۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے الزام لگانے والوں سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ غلط ثابت ہوئے تو استعفیٰ دیں گے اور اگر نجمی عالم کا مؤقف غلط ثابت ہوا تو انہیں استعفیٰ دینا ہوگا۔

ادارہ نور حق کی زمین سے متعلق 2006 کی ایک دستاویز بھی سامنے آئی ہے جس کے مطابق الخدمت سوسائٹی نے مذکورہ جائیداد ادارہ نور حق کو منتقل کی تھی۔

دستاویز کے مطابق جائیداد کی منتقلی کی دستاویز 14 اکتوبر 2006 کو کراچی میں تیار اور رجسٹرڈ کی گئی تھی جس میں الخدمت سوسائٹی کو جائیداد منتقل کرنے والا فریق قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز میں ادارہ نور حق کو جائیداد حاصل کرنے والا فریق قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جائیداد بغیر کسی مالی عوض کے منتقل کی گئی تھی۔

ریکارڈ کے مطابق جائیداد کا رقبہ 1160 مربع گز ہے اور اسے پرانے سروے نمبر 52/4 اور کسٹوڈین نمبر جے ایم-504-7-ڈی-471 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

دستاویز میں جائیداد سے متعلق حقوق اور مفادات ادارہ نور حق کو منتقل کیے جانے کا ذکر بھی موجود ہے جب کہ الخدمت سوسائٹی اور ادارہ نور حق کے نمائندگان کے دستخط اور مہریں بھی دستاویز پر موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version