Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لیگی رکن کے انتقال کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی پوزیشن کمزور ہوگئی

وزیراعظم کو عہدے پر برقرار رہنے یا وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 169 ووٹ درکار ہوں گے۔

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے انتقال کے بعد قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کی عددی پوزیشن مزید اہم ہوگئی جب کہ پیپلز پارٹی کے حکومت سے الگ ہونے کی صورت میں وزیراعظم کے پاس 168 ووٹ رہ جائیں گے جو سادہ اکثریت سے ایک ووٹ کم ہیں۔

قومی اسمبلی کے 336 ارکان میں نصف تعداد 168 بنتی ہے جب کہ وزیراعظم کو عہدے پر برقرار رہنے یا وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 169 ووٹ درکار ہوں گے۔

محمود بشیر ورک کے انتقال کے بعد مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 130 رہ گئی ہے جب کہ مسلم لیگ ن کے جنوبی پنجاب سے رکن قومی اسمبلی ملک اقبال چنٹر بھی حال ہی میں انتقال کرچکے ہیں۔

ملک اقبال چنٹر کی نشست بھی تاحال خالی ہے جس کے باعث قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی عددی صورتحال مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے پاس 22، مسلم لیگ ق کے پاس 5، استحکام پاکستان پارٹی کے پاس 4 جب کہ مسلم لیگ ضیا اور نیشنل پارٹی کی ایک ایک نشست ہے۔

چار آزاد ارکان کی حمایت بھی مسلم لیگ ن کو حاصل ہے جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی کا ایک رکن بھی مسلم لیگ ن کا اتحادی ہے۔

پیپلز پارٹی کے علاوہ حکومت کے پاس مجموعی طور پر 168 ارکان ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے 74 ارکان اس وقت حکومت کے اتحادی ہیں۔

اگر پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ اتحاد برقرار رکھتی ہے تو وزیراعظم کے پاس 242 ووٹ ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی کے حکومت سے الگ ہونے کی صورت میں وزیراعظم کے لیے سادہ اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی صورت میں حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی بھی دے چکی ہے جس کے باعث اس کی حکومت کے ساتھ وابستگی وزیراعظم کے عہدے کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

حکومت پیپلز پارٹی کے الگ ہونے کی صورت میں اپوزیشن کے ارکان کی حمایت حاصل کرکے وزارت عظمیٰ بچانے کی کوشش کرسکتی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن کے لیے بھی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے کامیابی کے لیے ایوان میں 169 ارکان کی حمایت ثابت کرنا ہوگی۔

تاہم اگر پیپلز پارٹی اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملاتی ہے تو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات آسان ہوسکتے ہیں۔

یوں پیپلز پارٹی کا حکومت کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنا یا اس سے الگ ہونا وزیراعظم کے عہدے پر قائم رہنے یا نہ رہنے کے معاملے میں انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں جو بھی امیدوار 169 ووٹ حاصل کرے گا، وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہ سکے گا یا وزیراعظم منتخب ہوسکے گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version