راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی کے خلاف جارحیت یا مداخلت کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا سب سے بڑا حامی ہے، دوست ممالک کے ساتھ اپنے متوازن تعلقات کی وجہ سے پاکستان غیر جانبدار اور منصفانہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے مستقل اور پائیدار امن کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کے کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات دوسرے کی قیمت پر نہیں ہیں۔
‘کوئی ملک یا فوج دفاعی معاہدوں کی آپریشنل تفصیلات پبلک نہیں کرتا’
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی اچانک صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پرمحیط تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کی باضابطہ شکل ہے، مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی کے خلاف جارحیت یا مداخلت کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ معاہدہ اجتماعی ڈیٹرنس پر مبنی ہے، مکہ معاہدے سے چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ یہ تمام تعلقات ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی اور اجتماری ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے میں کوئی ایسی بات نہیں جو اسے مسلم الائنس کہے، مکہ معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی استحکام ہے، مکہ معاہدے میں توسیع کا فیصلہ تینوں ملک ہی کریں گے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق دفاعی معاہدوں کی آپریشنل تفصیلات پبلک نہیں کی جاتیں، کوئی ملک یا فوج اپنی آپریشنل تفصیلات پبلک نہیں کرتا، معاہدے کی آپرشینل تفصیلات تینوں ملک ہی طے کریں گے۔
‘حکومت پاکستان واضح کر چکی ہے ہر ملک کے اپنے الگ الگ قومی مفاد ہیں’
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ معاہدے میں علاقائی امن و استحکام اور عدم جارحیت پر یقین رکھنے والے خواہشمند ممالک شامل ہو سکتے ہیں، پوری دنیا اور چین کو بھی معلوم ہے کہ تینوں ملکوں کے تعلقات کس قدر گہرے ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات تذویراتی نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عوامی، جذباتی، ثقافتی اور حکومتی سطح پر ہیں، حکومت پاکستان واضح کر چکی ہے کہ ہر ملک کے اپنے الگ الگ قومی مفاد ہیں۔ مئی 2025ء کے تنازع کے دوران پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان فوجی تصادم پاگل پن اور اسٹریٹجک حماقت ہے۔
‘بھارت نے کوئی حماقت کی تو وہ خود یقینی تباہی کی طرف چلا جائے گا’
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ہو رہا ہے اور وہ اندرونی ناکامیوں کو بیرونی مسائل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، پاکستان برابری، خودمختاری کے احترام اور بھارت کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے کی شرط پر ہی کسی بھی قسم کے مذاکرات یا بات چیت کا قائل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے 2025 میں بھارت کو ہر ڈومین میں سبق سکھایا، پاکستان نے ہر شعبے میں چاہے وہ فضا، زمین، سائبر، سمندر، سفارتی یا انفارمیشن میدان ہو بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان نے 2025 میں اپنی صلاحیت کا صرف 10 سے 15 فیصد حصہ استعمال کیا تھا، بھارتی عسکری ترجمان چند گھنٹوں کے اندرہی اسکرین پر آئے اور جنگ بندی کی بات کرنے لگے۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ بھارت نے دوبارہ کسی فالس فلیگ آپریشن یا جارحیت کی کوشش کی تو نتائج اس کی توقع سے زیادہ خطرناک ہوں گے، ڈی بھارت سے تنازعے کو نیوکلیئر تصادم میں بدلنے سے روکنے کے لیے پاکستان کا عزم ہی سب سے بڑا میکنزم ہے، بھارت نے کوئی حماقت کی تو وہ خود یقینی تباہی کی طرف چلا جائے گا۔
