پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عوام میں اتنا سیاسی شعور موجود ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی راستہ باقی نہ بچا تو دارالحکومت کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہر دو تین ماہ بعد کسی کے ذریعے لشکر کو دارالحکومت پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہزاروں پاکستانیوں کے خون میں ملوث قوت کے ساتھ سیاسی اتحاد اور تعاون بھی قبول نہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی میں سیاسی ساکھ قائم رکھنے کی کوشش ایک بڑا فیکٹر رہی ہے۔ کسی قید شخص کی خوشی یا مرضی کے لیے پاکستان کا شیرازہ بکھرنا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی وزارت اعلیٰ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی موجود ہیں، لیکن احتجاج میں کوئی نظر نہیں آرہا۔ سیالکوٹ سے پی ٹی آئی کا ایک شخص بھی موجودہ احتجاج میں شریک نہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما اور اتحادی کسی قابل قبول سیاسی حل کے خواہاں ہیں اور ایسا حل ہونا چاہیے جو ملک اور تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اپنی کرسیاں بچانے اور دستیاب وسائل پر قبضے کی لڑائی میں اختلافات شدت اختیار کرتے ہیں، موجودہ صورتحال بھی اسی نوعیت کے اختلافات کا نتیجہ ہے۔
