وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کا افتتاح کردیا۔ منصوبہ صرف 27 روز میں تعمیراتی معیار برقرار رکھتے ہوئے مکمل کیا گیا، وزیراعظم نے منصوبے کی تیز رفتار تکمیل پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیئرمین سی ڈی اے سمیت پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں اتنی برق رفتاری سے کوئی منصوبہ مکمل ہوتے نہیں دیکھا۔ کشمیر چوک کا منصوبہ محض 500 میٹر طویل انڈر پاس تک محدود نہیں بلکہ اس میں 4 کلومیٹر سڑکوں کا نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ منصوبے کے ساتھ کشمیر کی مناسبت سے دو خوبصورت یادگاری یادگاریں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس کے انعقاد کے پیش نظر اسلام آباد کو خوبصورت بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ کشمیر چوک انڈر پاس کا منصوبہ تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر 27 روز میں مکمل کیا گیا۔ تعمیر کے دوران پرانے درختوں کو محفوظ کرکے دوسری جگہ منتقل کیا گیا جبکہ منصوبے کے تحت 6 ہزار 340 نئے درخت بھی لگائے گئے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد کو مزید سرسبز بنانے کے لیے درختوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کیا جائے گا، جبکہ شہر میں سفاری پارک کے قیام کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم نے اس معاملے میں مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وفاقی کابینہ نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے اور اربوں روپے مالیت کی جائیداد سی ڈی اے کو واپس مل گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی عمارت کو اس کے اصل مقصد کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔
