Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان ابھرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، بلال بن ثاقب

ملاقات میں پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے شفاف، محفوظ اور جدت دوست ریگولیٹری ماحول تشکیل دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا

 چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان ابھرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے ماسٹرکارڈ کے ڈویژنل صدر مارک ایلیٹ سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز اور ادائیگیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران سرحد پار ادائیگیوں کو مؤثر بنانے، ترسیلاتِ زر کے نظام میں بہتری اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے فروغ سمیت مالیاتی اثاثہ جات کی ٹوکنائزیشن کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان کو سالانہ 40 ارب ڈالر سے زائد موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے ذریعے مزید مواقع پیدا کرنے پر گفتگو کی گئی۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کرسکتی ہیں۔

ملاقات میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، سائبر سیکیورٹی اور مالیاتی شفافیت سے متعلق عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ صارفین کا تحفظ اور مالیاتی استحکام یقینی بناتے ہوئے ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دینا ضروری ہے۔

بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ پاکستان ابھرتے ہوئے عالمی مالیاتی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور جدت کو عوام اور قومی معیشت کے لیے حقیقی معاشی فوائد میں تبدیل کرنا اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کا مالیاتی نظام مستحکم مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ریگولیٹری حکام کے باہمی تعاون پر منحصر ہوگا۔

ملاقات میں پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے شفاف، محفوظ اور جدت دوست ریگولیٹری ماحول تشکیل دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی نے بین الاقوامی روابط کو وسعت دینے اور ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Exit mobile version