ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات اس کا اندرونی معاملہ ہیں، پاکستان کے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا چار فریقی اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، جس میں فلسطین، یمن، امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سمیت آبنائے ہرمز کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست 4 جون 1967 کی سرحدوں پر قائم ہونی چاہیے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
اجلاس میں علاقائی تنازعات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ سفارتی کوششوں، بالخصوص اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محفوظ اور بلارکاوٹ بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان یمن اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے قابل مذمت ہیں، جن میں شہریوں کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تقدس کو نظرانداز کیا گیا۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مکہ اتحاد برائے دفاع سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اجلاس میں غزہ میں تشدد کے خاتمے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔ پاکستان نے اردن کی حکومت اور عوام سے تعزیت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔
انہوں نے بتایا کہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے اپنے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کی، جس میں اہم علاقائی اور عالمی چیلنجز زیر بحث آئے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سنگاپور کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر 30 اکتوبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگرہ کے تناظر میں یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ ملاقاتوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ سنگاپور 2027 میں آسیان کی سربراہی بھی سنبھالے گا۔
پاکستان اور سری لنکا کے وفود کے درمیان گندھارا تہذیب کے حوالے سے بھی ملاقات ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ گندھارا بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے ایک اہم مذہبی اور تاریخی ورثہ ہے۔ مذہبی سیاحت کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1974 کا مفاہمتی انتظام بھی موجود ہے۔ رواں ماہ کے اختتام پر بابا گرو نانک دیو جی کے حوالے سے تقریب منعقد ہوگی، جبکہ کرتارپور راہداری کے ذریعے روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری پاکستان آکر اسی روز واپس جا سکتے ہیں۔
روایتی ہتھیاروں سے متعلق پاکستان کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ عالمی سطح پر اس تجویز کو پذیرائی ملی ہے۔ قرارداد میں تحمل، ہم آہنگی اور ہتھیاروں کی دوڑ روکنے پر زور دیا گیا تھا، تاہم صرف دو ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ مخالف ممالک نے ہتھیاروں کے علاقائی کنٹرول کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں جدید ہتھیاروں کے اضافے کا معاملہ مسلسل عالمی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے اور قرارداد کی مخالفت کو بھی اسی علاقائی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستان اور چین کے سفارتی روابط کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ پاک چین ترجمانوں کے مذاکرات کا تیسرا دور 26 اکتوبر کو منعقد ہوا، جس میں چینی ترجمان نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات بھی کی۔ اسحاق ڈار نے 5 نومبر کو برطانوی وزیر مملکت سے ملاقات کی، جبکہ چینی سفیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں سی پیک، تجارت اور علاقائی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بحرین، مالدیپ اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے، جن میں علاقائی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔ سعودی وزیر خارجہ سے رابطے میں علاقائی امن و استحکام کے امور زیر بحث آئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار نے ایرانی سفیر امیری مقدم سے ملاقات کی، جبکہ ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلی فونک رابطے کیے گئے۔ ان ملاقاتوں اور رابطوں میں خطے کی مجموعی صورت حال، علاقائی سلامتی، امن اور استحکام کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
