حکومت نے نوجوانوں کے لیے کاروبار اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے وزیراعظم یوتھ لون اسکیم میں بڑی تبدیلیاں کردی ہیں، قرض حاصل کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد 75 لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے جبکہ درخواست دینے کی کم از کم عمر 21 سے کم کرکے 18 سال مقرر کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیموں سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں نوجوانوں کو مالی معاونت کی فراہمی اور پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی پالیسی کے تحت نوجوانوں کو آسان اقساط پر ڈھائی کروڑ روپے تک قرض فراہم کیا جاسکے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجموعی قرضوں میں سے 30 فیصد حصہ خواتین کے لیے مختص کیا جائے تاکہ وہ بھی کاروبار اور معاشی سرگرمیوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرسکیں۔
شہباز شریف نے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کو ہدایت کی کہ قرض حاصل کرنے والے نوجوانوں کو صرف مالی معاونت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ کاروبار شروع کرنے، تکنیکی رہنمائی اور مشاورت کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، انہیں بااختیار بنانے اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔ انہوں نے اسکیم سے متعلق ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جنوری 2023 سے اب تک 5 لاکھ 81 ہزار 341 نوجوانوں کو مجموعی طور پر 313 ارب 90 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں، جو گزشتہ دس برس کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔
بریفنگ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران 2 لاکھ 66 ہزار 700 نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے 292 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان رانا مشہود احمد خان اور معاون خصوصی برائے سیاسی امور طلحہ برکی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

















