بنگلہ دیشی آف اسپنر شوہلی اختر کو کرپشن کے الزامات پر پانچ سال کے لیے کرکٹ سے معطل کر دیا گیا۔ شوہلی اختر کرپشن کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنے والی پہلی خاتون کرکٹر بن گئی ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات میں شوہلی کو رشوت کی پیشکش، میچ فکسنگ کی کوشش اور تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کا مجرم قرار دیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق، شوہلی نے 2023 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو 16,400 امریکی ڈالر کی رشوت پیش کی تھی تاکہ وہ جان بوجھ کر میچ کے دوران ہٹ وکٹ ہو جائیں۔
آئی سی سی نے شوہلی اختر پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی، جسے انھوں نے تسلیم کر لیا اور سماعت سے گریز کیا، جس سے فیصلہ فوری اور موثر کیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خواتین کرکٹر پر کرپشن کے الزام میں باضابطہ پابندی عائد کی گئی ہے۔
