Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ناصر حسین نے صائم ایوب کے انتخاب کو ٹیسٹ کرکٹ کی توہین قرار دے دیا

ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، ناصر حسین

سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں صائم ایوب کو شامل کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

برمنگھم میں جاری تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے جب کہ لارڈز میں شکست کے بعد ٹیم میں 7 تبدیلیاں بھی نتائج تبدیل نہ کرسکیں۔

صائم ایوب کو کیریبین پریمیئر لیگ میں سنچری بنانے کے بعد اچانک ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا تاہم وہ انگلینڈ کے خلاف میچ کی دونوں اننگز میں اپنا کھاتہ کھولنے میں بھی ناکام رہے۔

سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے کہا کہ صائم ایوب کو انگلینڈ نہیں بھیجا جانا چاہیے تھا کیونکہ انہوں نے طویل عرصے سے فرسٹ کلاس کرکٹ بھی نہیں کھیلی۔

ناصر حسین کا کہنا ہے کہ مختلف حالات اور مختلف طرز کی کرکٹ کھیلنے والے کسی کھلاڑی کو اچانک انگلینڈ بلاکر وہاں کی مشکل پچز اور مضبوط گیند بازی کے خلاف میدان میں اتارنا درست فیصلہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ہر کھلاڑی کے لیے سب سے مشکل طرز کی کرکٹ ہے جب کہ انگلینڈ میں اننگز کا آغاز کرنا خاص طور پر مشکل ذمہ داری ہے۔

ناصر حسین نے 2011 کی مثال دیتے ہوئے سابق بھارتی اوپنر وریندر سہواگ کا حوالہ بھی دیا، جنہیں اسی میدان پر پہلے دو ٹیسٹ نہ کھیلنے کے بعد ٹیم میں شامل کیا گیا تھا اور وہ دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

سابق انگلش کپتان نے کہا کہ سہواگ صائم ایوب سے کہیں زیادہ تجربہ کار اور بہتر کھلاڑی تھے، اس کے باوجود وہ بھی اس صورتحال میں ناکام رہے۔

ناصر حسین نے کہا کہ صائم ایوب کی جانب سے کھیلے گئے شاٹ کی ذمہ داری کسی حد تک خود کھلاڑی پر بھی عائد ہوتی ہے لیکن یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر کس نے یہ فیصلہ کیا کہ انہیں اچانک اس مشکل مقابلے میں شامل کرنا درست ہوگا۔

صائم ایوب نے آخری مرتبہ اکتوبر 2025 میں فرسٹ کلاس میچ کھیلا تھا جب کہ انہیں کیریبین پریمیئر لیگ میں سنچری کے بعد ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیے جانے کے فیصلے پر سابق پاکستانی کھلاڑی باسط علی اور کامران اکمل بھی تنقید کرچکے ہیں۔

Exit mobile version