Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اے آئی چیٹ بوٹس کو یہ 5 باتیں ہرگز نہ بتائیں، اگر بتا بیٹھے ہیں تو حل جان لیں

اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ صحت سے متعلق حساس معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے

 ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اے آئی چیٹ بوٹس، خصوصاً چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور کلاؤڈ جیسے ٹولز پر حساس اور ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔

ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس سے گفتگو کا انداز اگرچہ ذاتی اور نجی محسوس ہوتا ہے، لیکن صارفین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پلیٹ فارم کی پالیسی کے تحت محفوظ یا پراسیس کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سبسکرپشن جلد ختم ہوجاتی ہے؟ یہ عادت بدلیں اور سبسکرپشن لمبی چلائیں

ماہرین نے خاص طور پر 5 اقسام کی معلومات چیٹ بوٹس کو فراہم نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ذاتی شناختی معلومات

پورا نام، گھر کا پتا، فون نمبر، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نمبر جیسی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔ ماہرین کے مطابق ریزیومے یا دیگر دستاویزات اے آئی سے ایڈٹ کرانے کی صورت میں بھی حساس شناختی تفصیلات پہلے ہٹا دینی چاہییں۔

انتہائی نجی معلومات

ذاتی، خاندانی یا دیگر حساس معاملات سے متعلق ایسی تفصیلات شیئر نہ کریں جنہیں آپ عام طور پر کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرتے۔

طبی معلومات

ماہرین کے مطابق عام اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ صحت سے متعلق حساس معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ اگر طبی مشورے کے لیے اے آئی استعمال کیا جائے تو اپنی شناخت ظاہر کرنے والی معلومات شامل نہ کی جائیں۔

خفیہ دفتری معلومات

 کمپنی کی اندرونی رپورٹس، کلائنٹس کا ڈیٹا، سورس کوڈ، کاروباری راز اور دیگر خفیہ مواد اے آئی چیٹ بوٹ میں اپ لوڈ نہ کریں۔

مالیاتی معلومات

بینک اکاؤنٹ، کریڈٹ کارڈ، پے سلپ، ٹیکس ریٹرن یا دیگر مالیاتی ریکارڈ چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ حساس معلومات کے افشا ہونے کی صورت میں فراڈ یا شناخت کی چوری کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اگر معلومات پہلے ہی شیئر کردی ہوں تو کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق اگر کوئی صارف پہلے ہی حساس معلومات چیٹ بوٹ کے ساتھ شیئر کرچکا ہے تو سب سے پہلے متعلقہ چیٹ اور دستیاب صورت میں اکاؤنٹ کی چیٹ ہسٹری ڈیلیٹ کرنی چاہیے، ساتھ ہی پلیٹ فارم کی پرائیویسی اور ڈیٹا کنٹرول سیٹنگز کا جائزہ لینا چاہیے۔

تاہم چیٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ کمپنی کے پاس موجود ہر کاپی یا ریکارڈ بھی اسی لمحے ختم ہوگیا۔ ڈیٹا کتنے عرصے تک محفوظ رہتا ہے اور اسے کیسے استعمال کیا جاتا ہے، یہ متعلقہ کمپنی کی پالیسی اور صارف کی سیٹنگز پر منحصر ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version