Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انگلینڈ سے شکست کا ذمہ دار کون؟ ٹیم یا سلیکشن کمیٹی!!

انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی سیریز میں شکست نہ تو غیر متوقع ہے اور نہ ہی پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے لیکن جس انداز میں پاکستان ٹیم نے کرکٹ کھیلی ہے اس پر پہلی دفعہ اتنی شدت سے تنقید کبھی نہیں کی گئی۔

انگلش میڈیا اور سابق کرکٹرز نے گزشتہ پچاس سال کی بدترین ٹیم قرار دیا اور کارکردگی کسی کلب ٹیم سے بھی نچلے درجے کی کہی گئی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ سے لے کر کھلاڑیوں تک کسی نے اس کا اثر لیا اور نہ معذرت کی بلکہ یہ کہا گیا کہ دوسری ٹیمیں بھی تو ہار رہی ہیں اگر پاکستانی ٹیم ہار گئی تو کون سی بڑی بات ہوگئی اور پھر وہی پرانے حربے کہ کھلاڑی بدل دو تاکہ ساری ذمہ داری کھلاڑیوں پر رہیں یہ ایک پرانا فارمولا ہے لیکن جس طرح کیا گیا اس نے مزید شرمندگی کا سامان پیدا کردیا۔

شکست کی اصل وجہ

اگر اصل وجہ دیکھی جائے تو کھلاڑی ہی وجہ ہوتے ہیں لیکن پاکستان کرکٹ میں سلیکشن کمیٹی اور بورڈ کی مسلسل مداخلت اور فیصلہ ساز قوت کے باعث ٹیم کا کمبینیشن نہیں بن پاتا ہے، جب انگلینڈ کے لیے ٹیم منتخب کی گئی تو بورڈ کے سیاہ و سفید کے مالک عاقب جاوید نے دعوی کیا تھا کہ یہ بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہے۔ حالانکہ اس وقت امام الحق، خرم شہزاد اور علی عثمان سمیت بہت سے کھلاڑیوں کی شمولیت پر اعتراض کیے گئے تھے کہ ان کی حالیہ کارکردگی اس قابل نہیں کہ منتخب ہوں لیکن بورڈ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

سرفراز احمد جنھیں اچانک جونئیر ٹیم کی کوچنگ سے قومی ٹیم پہنچایا گیا تھا وہ بھی جواب دینے سے قاصر تھے، وہ اس قدر مایوس تھے کہ اصل جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیتے تھے۔ ٹیم میں کوچ سے اختلافات بھی موجود تھے کیونکہ سرفراز ان کھلاڑیوں کے کوچ تھے جن کی کپتانی میں کھیل چکے تھے جس نے ڈریسنگ روم کا ماحول بھی متاثر کیا۔ عاقب جاوید نے سب سے بڑی غلطی کی کہ دوران دورہ کوچ کو تبدیل کردیا، یہ ایک ایسا شاندار کارنامہ تھا جس کا دنیا بھر میں مذاق اڑایا گیا اور پھر غیر ضروری سات کھلاڑی بدل دیے۔

صائم ایوب کا غلط انتخاب

امام الحق نے جب لارڈز ٹیسٹ میں ڈرامہ کیا تو بورڈ نے انہیں واپس بلاکر غیر ضروری صائم ایوب کو کیریبین سے طلب کرلیا جب کہ وہ وہاں کیریبین لیگ کھیل رہے تھے اور  یکسر ناکام تھے۔ انہیں بغیر سوچے سمجھے طویل دورانیہ کی کرکٹ کھلادی گئی اور نتیجہ دو صفر رہا۔ ایک ناکام کھلاڑی کی بدترین کارکردگی! صائم ایوب کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے چار سال میں صرف چار فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں وہ سارا سال نچلے درجہ کی فرنچائز لیگ کھیلتے ہیں ان کو ٹیم میں شامل کرنے پر عاقب جاوید کو سزا دی جانی چاہیے کیونکہ شان مسعود اور عبداللہ شفیق اوپننگ کرسکتے تھے۔

بیٹنگ کی پسپائی

پوری سیریز میں بیٹنگ کا حال یہ رہا کہ جیسے اگر زیادہ دیر وکٹ پر رک گئے تو مار دیے جائیں گے۔ اوپننگ تو پہلے ہی برباد ہے لیکن مڈل آرڈر نے بھی پسپائی دکھائی تینوں ٹیسٹ میچ میں بابر اعظم اور سعود شکیل جس طرح آؤٹ ہوئے اس پر یقین نہیں آتا کہ وہ پانچ سال سے زائد سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ کوئی حکمت عملی نہ ہوم ورک اور جب گیند بیٹ پر آنے لگتی تو احمقانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوجاتے۔

عبدااللہ شفیق جن کی انگلینڈ میڈیا نے بہت تعریف کی تھی وہ بیٹنگ کرنا بھول گئے، شان مسعود نے قسمت کے سہارے کچھ اچھی اننگز کھیلیں لیکن بے سود رہیں۔ غازی غوری جو کلب کرکٹ کے بھی قابل نہیں بالکل غلط ٹیکنیک ہے، انہیں روحیل نذیر اور سعد بیگ پر ترجیح دی گئی حالانکہ سعد بیگ بہت اچھے بلے باز ہیں ایک اور ٹیسٹ کیپ بانٹنے کا واقعہ عمران رندھاوا تھے۔ ایک انتہائی معمولی کھلاڑی جن سے اچھے ہزاروں کھلاڑی موجود ہیں لیکن عاقب جاوید نے کسی کو نیچا دکھانے کے لیے ایک نچلے درجہ کا کھلاڑی زبردستی ٹیسٹ میچ میں کھلادیا۔

پوری سیریز میں کپتان اور ٹیم مینجمنٹ میں کوئی اتفاق نظر نہیں آیا اور اسکواڈ سلیکشن پر تو نجی حلقوں میں بابر تنقید کرتے رہے۔

بولنگ

پاکستان ٹیم کی بولنگ سے اگر محمد عباس کو نکال دیا جائے تو ایک تیسرے درجہ کی بولنگ رہی۔  محمد علی اور خرم شہزاد مناسب کنڈیشنز کے باوجود اچھی بولنگ نہ کرسکے۔ آخری ٹیسٹ میں رضااللہ نے اچھی بولنگ کی لیکن سارا بوجھ محمد عباس پر رہا جنہوں نے نپی تلی بولنگ کی اور اپنی لیٹ سوئنگ سے انگلینڈ کے بلے بازوں کو پریشان کیا۔

اسکینڈلز

ہمیشہ کی طرح موجودہ دورہ بھی اسکینڈلز کی زد میں رہا۔ محمد رضوان اور امام الحق کو ڈسپلن کی بنیاد پر واپس بھیجا گیا، کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ نئے کوچ مائیک ہیسن نے رضوان کو کھلانے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وہ اور بورڈ رضوان کی تبلیغی سرگرمیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ہیسن نے ہی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں انہیں شامل نہیں ہونے دیا تھا تاہم یہ سب افواہیں ہیں اور ہیسن تردید کرچکے ہیں۔ دونوں کی پراسرار انداز میں واپسی اور پھر موبائل فونز کی تحویل نے اسے فکسنگ تک پہنچادیا ہے۔ انڈین میڈیا نے اسے فکسنگ قرار دیا اگرچہ تحقیقات ابھی جاری ہیں لیکن جس بھونڈے انداز میں بورڈ نے اس کی تشہیر کی ہے اس سے پوری ٹیم کا چہرہ بگڑ گیا ہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں امام الحق نے جو اداکاری کی اس پر انہیں آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے، خطرناک پچ کو دیکھتے ہوئے وہ راہ فرار اختیار کرگئے اور بہانہ ایک ایسی چوٹ کا بنایا جس کا وجود ہی نہیں تھا۔  ان کی اس حرکت پر انگلینڈ کمنٹیٹرز نے ان کا بہت مذاق اڑایا اور اسے ایک بھونڈی ایکٹنگ قرار دیا۔

ایک اور بدنمائی یہ رہی کہ پہلے ٹیسٹ میں بابر اعظم پراسرار چوٹ کی بنا پر نہیں کھیلے اور سلمان علی آغا نے کپتانی کی۔ وہی سلمان اگلے ٹیسٹ میں باہر ہوگئے اور اس کے بعد فوری دورہ سے بھی باہر کردیا گیا، اس فیصلے نے مزید کالک مل دی۔

سیریز کی دریافت

اس سیریز میں محمد عباس نے بہت عمدہ بولنگ کی لیکن اگر دریافت کہا جائے تو وہ ایجبسٹن ٹیسٹ میں اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے رضااللہ ہیں، جنہوں نے پہلے اپنی تیز بولنگ سے سب کو متاثر کیا اور پھر دوسری اننگز میں بے خوف بیٹنگ سے بھی سب کے دل جیت لیے۔ ان کی شاندار 81 رنز کی اننگز نے انگلینڈ ٹیم کو دوبارہ کھیلنے پر مجبور کردیا، رضا نے انگلینڈ کے ان بولرز کو فلک شگاف چھکے رسید کیے جو ٹاپ آرڈر کے لیے مصیبت بنے ہوئے تھے۔ ان کی بیٹنگ اگرچہ مروجہ اصولوں سے بے نیاز تھی لیکن اس میں جو جوش اور ولولہ تھا وہ قابل دید تھا ان میں ایک اچھے آل راؤنڈر بننے کے جراثیم موجود ہیں لیکن اس سے ان کی بولنگ متاثر ہوگی جس میں وہ زیادہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔

سیریز کی شکست کے بعد کچھ استعفی آسکتے ہیں لیکن اس تباہی کے اصل ذمہ دار عاقب جاوید کی جانب سے کوئی شرمندگی اب تک ظاہر نہیں ہوئی ہے۔ اسکواڈ سلیکشن سے پلیئنگ ٹیم سلیکشن تک ان کی دخل اندازی کے باوجود چیئرمین بورڈ کی خاموشی نے اس بات کو مزید قوی کردیا ہے کہ بورڈ کے اصل مالک عاقب جاوید ہیں جو عہدہ تو ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس رکھتے ہیں لیکن ان کا سارا وقت قومی ٹیم کے معاملات میں گزرتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بورڈ سارے وسائل کے باوجود ابھی تک کوئی اچھا بلے باز یا بولر نہیں بناسکا۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس سیریز کے رسوا کن نتائج کے بعد چیئرمین کرکٹ بورڈ کوئی واقعی ایکشن لیں گے یا ہمیشہ کی طرح رات گئی بات گئی کے مترادف سب کچھ ٹھیک سمجھ لیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version