ستمبر 1965 کی جنگ کے 13ویں روز بھارتی حکومت نے صحافیوں کو جنگی علاقوں میں جانے اور شفاف رپورٹنگ سے روک دیا۔
پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے باؤ ریلوے سٹیشن پر قبضہ کرلیا، بھارت کو لڑائی کے پہلے 8 دنوں میں تقریباً اپنی آدھی فوجی طاقت کا نقصان اٹھانا پڑا جس میں 209 ٹینک اور 140جنگی طیارے شامل ہیں۔
پاکستانی فوج نے کھیم کرن کی طرف پیش قدمی کی متعدد بھارتی کوششوں کو ناکام بنا دیا، بھارت کو قصور، جموں اور سیالکوٹ کے محاذ پر بھی بھاری نقصان کا سامنا رہا، مجاہدین نے سرینگر کے نزدیک بھارتی ملٹری بیس پر حملہ کر دیا۔
پاک فضائیہ نے جموں ائیر فیلڈ پر کھڑے 6 بھارتی ٹرانسپورٹ طیارے تباہ کر دئیے سیالکوٹ سیکٹر میں پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کا Gnat طیارہ مار گرایا۔
عوام کی بڑی تعداد نے جنگ کے زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دئیے۔
پاک فوج کی مسلسل کامیابیوں سے بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی، بھارت کو نہ صرف میدان جنگ میں بلکہ سفارتی سطح پر بھی مکمل شکست سے دوچار ہوا۔
