Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فلوٹنگ بریج کے سوشل میڈیا پر چرچے

فلوٹنگ بریج کے ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سمندر فلوٹنگ بریج پر سے دیگر گاڑیں گزر رہی ہیں۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں پل پر سے گزارنے والی گاڑیوں کو دیکھ کرایسا لگ رہ اہے کہ یہ تمام گاڑیاں لہرا کر گزررہی ہیں۔

https://twitter.com/i/status/1619788831993266176

فلوٹنگ بریج سے لہراتی ہوئی گزرتی گاڑیوں کو دیکھ کر صارفین اس ویڈیو پر کمنٹس کرنے پر آخر مجبور ہو ہی گئے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پل کو بہت پسند کیا جا رہا ہے ساتھ ہی سمندر اور ہریالی کے خوبصورت نظارے نے اس پُل کے شان میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

مزید پڑھیں

http://staging.bolnews.com/urdu/trending-on-social-media/2023/01/988334/

دوسری جانب چین نے دنیا کے طویل ترین سمندری پل کی صورت میں دنیا کا ایک اور عجوبہ تعمیر کر لیا ہے، جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

یاد رہے کہ ہانگ کانگ-جوخائے-مکاؤ پل پرل ریور یعنی نہرالولو کے ڈیلٹا پر تعمیر ہونے والا دنیا کا طویل ترین پل ہے۔

اس کی لمبائی 55 کلو میٹر سے زیادہ ہے، جو اپنے آپ میں بےمثال انجینئرنگ کا نمونہ ہے۔

اس سے پہلے دنیا کا سب سے طویل سمندری برج بھی چین میں ہی تھا، جس کی لمبائی 26اعشاریہ3 میل تھی جو کہ چنگ ڈاؤ میں تعمیر کیا گیا تھا۔

55کلو میٹر(34میل )تک پھیلے ہانگ کانگ۔ جوخائے۔مکاؤ۔ برج منصوبے نے چین کے 3 بڑے شہروں کو ایک دوسرے سے منسلک کردیا ہے اور اس طرح 4 کروڑ 20 لاکھ افراد پر مشتمل ایک بڑے شہر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے سمندری پل کی تعمیر سے ان تینوں شہروں کے درمیان سفر کے وقت میں50فیصد سے زیادہ کمی آچکی ہے۔

ماضی میں ہانگ کانگ اور جوخائے شہر کے درمیان سفر 4گھنٹے طویل تھا جو کہ اس پل کی مدد سے سمٹ کر محض 30منٹ رہ گیا ہے جبکہ اس پل کے کھلنے سے پرل ریور کے ذریعے ہانگ کانگ سے مکاؤ جانے والے افراد ایک گھنٹے کے اندر ہی اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں یہ پل6لین کا ہے۔

اس میں 4 سرنگیں بھی تعمیر کی گئیں، جن میں سے ایک زیرآب ہے۔ اس پل کو سہارا دینے کے لیے چین کی جانب سے 4 مصنوعی جزیرے بھی تعمیر کیے گئےہیں۔

چین نے اسے’ ‘انجینئرنگ کا عجوبہ‘ قرار دیا ہے، جس میں 4 لاکھ 20ہزار ٹن اسٹیل استعمال کیا گیاہے، اتنے اسٹیل سے 60 ایفل ٹاور آسانی سے تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔ کچھ مقامات پر اس پل میں معمولی ڈھلوان بھی دیکھنے میں آتی ہے۔

اس کا ڈیزائن زلزلوں، علاقے کو تہہ و بالا کر دینے والے موسمی سمندری طوفانوں اور حادثاتی طور پر جہازوں کی ٹکر کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا ہے۔

پل کی تعمیر کا آغاز 15دسمبر 2009ء کو کیا گیا تھا،تقریباً 10 برس کی مدت میں مکمل ہونے والے اس عظیم الشان پل پر اخراجات کا درست تخمینہ سامنے نہیں آسکا، تاہم اب تک چین اس پر اربوں ڈالر کی رقم خرچ کرچکا ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق، یہ رقم 20ارب ڈالر بنتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version