ہائیکنگ قدرے مشکل لیکن ایک انتہائی بہترین مشغلہ ہے جو آپ کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
محض تفریح کی غرض سے کسی بھی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، تاہم اس مشکل مشغلے کو چین نے آسان بنادیا ہے۔
مشرقی چین کے صوبہ جیانژی کے لینگ شان سیونک ایریا میں، اب کوئی بھی شخص صرف باہر کی اسکیلیٹرز پر کھڑے ہوکر 1,500 میٹر بلند چوٹی تک پہنچ سکتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصدعوام کو مشہور پہاڑ چوٹی تک پہنچنے کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ارد گرد کے علاقے کی خوبصورتی کا لطف اٹھا سکیں۔
یہ بڑا منصوبہ 2022 میں شروع کیا گیا تھا اور اگلے مہینے مکمل ہونے کا امکان ہے۔ حالیہ تصاویر اور ویڈیوز جو اس مقام پر لی گئی ہیں، ان میں پہاڑ کی ابتدا سے چوٹی تک کئی اسکیلیٹرز دکھائی دیں رہی ہیں۔
اگرچہ یہ چین کی واحد پہاڑی نہیں ہے جس میں اسکیلیٹر انسٹالیشن کی گئی ہے، تاہم اس کی پہاڑ کی اونچائی اور بناوٹ کی وجہ سے اس پر اسکیلیٹر کےنصب کرنے کے عمل کو ایک بڑا اور پیچیدہ مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔
چین کے صوبہ ژی جیانگ میں موجود تان یو وہ پہلا پہاڑ تھا جس پر 2023 میں اسکیلیٹر نصب کی گئی تھی، تاکہ کوئی بھی شخص 350 میٹر بلند چوٹی تک پہنچ سکے، تاہم اس کے بعد اس کی تقلید کرتے ہوئے چین میں موجود کئی چھوٹے بڑے پہاڑ پر اسکیلیٹر نصب کی گئی۔
چین کی عوام نے اس پر اپنے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے کچھ لوگوں نے اس عمل کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس طرح بزرگ و معذور افراد بھی بلند و بالا پہاڑ پر پہنچ اس کر اس کے خوبصورت نظاروں سے محظوظ ہوسکتے ہیں، جبکہ دوسروں نے حکام پر یہ الزام عائد کیا کہ اس سے ہائیکنگ کا مزہ ختم ہو گیا ہے۔
لنگ شن پہاڑ جو کہ 1500 میٹر بلند ہے پہلے لوگوں کو اس کی چوٹی پر پہنچنے کے لیے پہلے ہزاروں سیڑھیاں چڑھنا پڑتی تھیں جس کےلیے تقریباً دو گھنٹے لگتے تھے، تاہم اگلے ماہ ایسکلیٹر کی تنصیب کا افتتاح ہونے کے بعد، لوگ آسانی کے ساتھ چوٹی تک چند منٹوں میں پہنچ سکیں گے۔
