مودی کی ہندوتوا قوم پرستی اور انتہا پسند سیاست بھارت کی جمہوری ساکھ کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے، مودی سرکارکا ہندوتوا نظریہ بھارت کی سیکولر شناخت اور قومی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، جبکہ مودی کی متنازع سفارتی حکمت عملی نے بھارت کو عالمی محاذ پر تنہا کر دیا ہے۔

امریکی جریدے فارن افیئرز نے بھی مودی کی انتہا پسند پالیسیوں اور سفارتی ناکامیوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
امریکی جریدے فارن افیئرز کی رپورٹ کے مطابق ’’مودی سرکار کی غیر جمہوری پالیسیوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی اور اندرونی بدامنی میں شدت آئی، جس کے نتیجے میں بھارت کی جمہوری ساکھ شدید زوال کا شکار ہوچکی ہے۔
فارن افیئرز میں کہا گیا ہے کہ دفاعی وسائل کی کمی اور سیاسی خلفشار کے باعث بھارت کا بیرونی اثر و رسوخ کمزور ہوتا جا رہا ہے، بھارت چین پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ امریکی بالادستی کو بھی چیلنج کرنا چاہتا ہے، جس سے واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت عالمی فورمز پر امریکی اثر و رسوخ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور متعدد پالیسیوں میں واشنگٹن کی مخالفت کرتا ہے، معاشی اور عسکری میدان میں چین نے بھارت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، 6 فیصد ترقی کے باوجود بھارت چین کے مقابلے میں ایشیا میں پیچھے رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق تحفظ پسندی، ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے تحت ناپید مصنوعات کی تیاری اور تحقیق میں سرمایہ کاری کی کمی، بھارت کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں، یوکرین جنگ کے باوجود بھارت نے روس و ایران جیسے مغرب مخالف ممالک سے قریبی تعلقات برقرار رکھ کر اسٹریٹجک خودمختاری پر اصرار جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا ایران کیخلاف پاکستانی تعاون سے متعلق جھوٹی کہانیاں پھیلانے لگا
بھارت کی متعدد ممالک کے بارے میں متضاد خارجہ پالیسیوں سے امریکہ سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسیوں نے بھارت کے جمہوری اداروں کو کمزور کر دیا ہے، اور ملک کا سیکولر تشخص شدید بحران کا شکار ہے۔
فارن افیئرز میں یہ بھی کہا گیا کہ ہندوتوا نظریہ بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں شدید تناؤ کا باعث بن رہا ہے، مودی سرکار میں آئینی تبدیلیوں کی وجہ سے بھارت کا سیکولر آئینی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے، اور ریاستی ادارے سیاسی مفادات کے ہتھیار بنائے جا چکے ہیں۔
ٹیکس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپوزیشن اور سول سوسائٹی کو دبانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، مودی سرکار نے پارلیمنٹ اور عدلیہ جیسے جمہوری توازن کے اہم ستونوں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بی جے پی نے پارلیمانی اکثریت عوامی مینڈیٹ سے نہیں بلکہ انتخابی نظام کی ساختی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر حاصل کی، ہندوتوا نظریے کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں، اور سرکار و عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اس کا واضح ثبوت ہے، فرقہ وارانہ تقسیم سے بھارت کی اندرونی سلامتی اور عالمی اثر کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
بی جے پی کی پولرائزیشن پالیسیز بھارت کے پہلے سے کمزور اداروں کو مزید نقصان پہنچا رہی ہیں، مودی کی پولرائزیشن شمال مشرقی بھارت اور کشمیر میں بغاوتوں کو مزید بھڑکا سکتی ہے۔
فارن افیئرز کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی پالیسیز پاکستان اور بنگلہ دیش سے سفارتی تعلقات کو خراب کر رہی ہیں، غیر جمہوری بھارت ایک کمزور بھارت ہوگا، چوتھی بڑی معیشت ہونے کے باوجود معیارِ زندگی اور قومی طاقت میں چین، امریکہ اور یورپ سے پیچھے رہے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت جنوبی ایشیا میں بھی غالب طاقت بننے میں ناکام رہا، مشرق وسطیٰ و مشرقی ایشیا دونوں میں ناکامی بھارت کی کمزور حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے، بھارت کی بناؤٹی معاشی ترقی اثرورسوخ بڑھانے میں ناکام، جمہوری زوال، کمزور ادارے اور ناکام سفارت کاری بڑی رکاوٹیں ہیں مودی سرکار کی آمریت زدہ پالیسیاں بھارت کی قومی یکجہتی اور خطے کے امن کے لیےسنگین خطرہ بن چکی ہیں۔