ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے کہاہے کہ اے آٸی سمیت دنیا بھر میں ہونے والی ساٸنسی کی ایجادات نے پاکستان میں موجود پولیس نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگلے چند سالوں میں نظامٍ پولیس موجودہ طرز انداز پر نہیں چل سکے گا۔ ان کاکہناتھاکہ حالات کا تقاضا ہے کہ آنے والی غیر معمولی ساٸنسی ایجادات کی بدولت رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق پیش بندی کر لی جائے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے نیشنل ویژن تھنک ٹینک کی خصوصی نشست میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
خصوصی نشست میں احسن ضیاء ، بلال محمود بٹ، اشرف سہیل،ندیم چوہدری، دلاور چوہدری ، منصور ملک ، عامر ملک ، عثمان فیض ، غالب باجوا ، افضال عباسی ، انس ضیاء ، اسحاق گجر ، جمشید خان اور دیگر نے شرکت کی۔
ڈی پی او سیالکوٹ کا کہنا تھااے آئی سمیت سائنسی ایجادات نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما کی ہیں جن کا تصور چند دہائیوں پہلے نہیں کیاجاسکتاتھا۔
انہوں نے کہاکہ پولیس کا خوف یقیناً ہونا چاہیے تاہم یہ خوف شہریوں کی بجائے مجرموں پر ہونا چاہیے ۔
ان کا کہناتھا کہ تھانہ کلچر کی تبدیلی معاشرتی و سیاسی رویوں کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کے خلاف شکایات ضرور ہیں لیکن سب سچ نہیں۔
ڈی پی او سیالکوٹ نے کہاکہ پولیس آپریشن کے دوران ڈرونز، کیمروں اور اے آئی سمیت جدید تکنیکی مہارت سے بہت بہتری لا کر کامیابی کے تناسب کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔
