روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ماسکو میں اہم مذاکرات کے بعد امریکا کے دو اعلیٰ ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچ گئے ہیں جہاں وہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق اہم بات چیت کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں ایلچیوں نے ہفتے کے روز ماسکو میں صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران جنگ کے خاتمے اور آئندہ اقدامات سے متعلق ٹھوس منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی ایلچی اب یوکرین میں بھی اتنی ہی نتیجہ خیز ملاقاتوں کے خواہاں ہیں، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کی سفارتی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ماسکو مذاکرات میں کن حتمی نکات پر اتفاق ہوا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اہم اعلان متوقع ہے۔
یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کا کیف کا پہلا دورہ ہے، جسے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملے تین روز کے لیے روکنے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔
ماسکو میں امریکی ایلچیوں اور پیوٹن کے درمیان مذاکرات جاری تھے تو یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور جنگ کے خاتمے کو قریب لانے میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ امن کے ساتھ ساتھ مضبوط سکیورٹی ضمانتیں بھی ضروری ہیں اور تمام فریقوں کو مربوط، سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ انداز میں کام کرنا ہوگا۔
تاہم سفارتی کوششوں کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی برقرار رہی اور رات بھر روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔
یوکرین نے تصدیق کی ہے کہ اس نے روسی اہداف پر حملے کرتے ہوئے ایک آئل ریفائنری، ایک فضائی اڈے اور فضائی دفاع کے دو نظاموں کو نشانہ بنایا۔
امریکی ایلچیوں کے کیف پہنچنے اور ماسکو میں پیوٹن سے مذاکرات کے بعد اب عالمی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ کیا آنے والے ہفتوں میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی بڑا بریک تھرو سامنے آتا ہے۔
