Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیپال میں قیامت خیز سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 1252 ہوگئی، سیکڑوں افراد اب بھی لاپتہ

سیلاب کی تباہی نے پڑوسی علاقے تبت کو بھی متاثر کیا ہے

نیپال میں گلیشیئر کے تباہ کن انہدام کے بعد آنے والے ہولناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 1,252 ہوگئی ہے۔ سیکڑوں افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

نیپالی پولیس کے مطابق گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد اب تک سیکڑوں افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ حکام نے بتایا کہ 26 اگست کو گلیشیئر کے اچانک اور تباہ کن انداز میں منہدم ہونے کے بعد پانی، برف، کیچڑ اور ملبے کے بڑے ریلوں نے وسطی اور شمالی نیپال کی متعدد آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

شدید سیلاب کے باعث کئی دیہات مکمل طور پر زیر آب آگئے جبکہ مکانات، پل، سڑکیں اور پن بجلی کے متعدد منصوبے بری طرح تباہ ہوگئے۔

نیپال پولیس کے جمعرات کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ضلع چتوان سے 355 لاشیں برآمد کی گئیں جبکہ نوالپراسی ایسٹ سے 218، نوالپراسی ویسٹ سے 208 اور نوواکوت سے 177 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں برآمد ہونے والی 18 لاشیں بھی نوالپراسی ویسٹ کے حکام کے حوالے کردی گئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب بھی 4,200 سے زائد افراد لاپتا ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو آپریشن خاص طور پر ان علاقوں میں جاری ہے جہاں شدید ملبہ جمع ہے۔ امدادی ٹیمیں پن بجلی کے منصوبوں کی متعدد سرنگوں میں بھی تلاش کا کام کر رہی ہیں جہاں سینکڑوں کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔

تباہ کن سیلاب کے باعث ہزاروں افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی شدید ضرورت پیدا ہوگئی ہے۔

مشکل پہاڑی راستوں اور مزید بارشوں کے خطرے کے باوجود نیپالی حکام اور بین الاقوامی ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کی امداد کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔

ادھر سیلاب کی تباہی نے پڑوسی علاقے تبت کو بھی متاثر کیا ہے جہاں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version