واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ چین ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ایرانی آئل ٹینکرز پر حملوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔
جے ڈی وینس کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے جبکہ ایرانی فورسز کی جانب سے تجارتی جہازوں پر فائرنگ گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے آبنائے ہرمز پر اختیار کو مؤثر طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ جب تک ایران تجارتی جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتا امریکا تہران سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ ایران کے معاملے میں تمام آپشنز میز پر موجود ہیں تاہم ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی۔
امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایران میں ایک شادی کی تقریب پر مبینہ حملے کے حوالے سے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا جنگی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا، سینٹکام واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات تک ختم ہوگی یا نہیں۔
