Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت سے عالمی سرمایہ کاروں نے منہ موڑ لیا، اسٹاک مارکیٹ 17 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی

غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی محض اسٹاک مارکیٹ کی سرگرمیوں تک محدود معاملہ نہیں

بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری 17 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے بھارتی ایکویٹیز میں عالمی سرمایہ کاروں کی کم ہوتی دلچسپی نمایاں ہوگئی۔

بلومبرگ کے مطابق متعدد عالمی کمپنیوں نے بھارتی مارکیٹ میں اپنی سرمایہ کاری صفر تک محدود کردی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں محدود مواقع اور نسبتاً کم منافع کے باعث غیر ملکی ادارے تیزی سے سرمایہ نکال رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کم ہوتی دلچسپی نے بھارتی اسٹاک ایکسچینج میں بیرونی سرمایہ کاری کو 17 سال کی کم ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔

دوسری جانب بینک آف امریکا کے ایک حالیہ سروے میں بھی بھارت کو ایشیا کی سب سے کم ترجیحی مارکیٹ قرار دیا گیا ہے۔

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی محض اسٹاک مارکیٹ کی سرگرمیوں تک محدود معاملہ نہیں، بلکہ یہ بھارتی اثاثوں پر عالمی سرمایہ کاروں کے منافع، مارکیٹ ویلیوایشن اور مستقبل کے معاشی مواقع سے متعلق خدشات کی عکاسی بھی کرسکتی ہے۔

تاہم صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کو بھارتی معیشت کی مجموعی کمزوری کا حتمی ثبوت قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ سرمایہ کاری کے فیصلوں پر عالمی شرح سود، دیگر ایشیائی منڈیوں کی کشش، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور شعبہ جاتی مواقع سمیت کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود، اگر عالمی سرمایہ کاروں کا انخلا طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو بھارتی ایکویٹی مارکیٹ، روپے کی قدر اور بیرونی سرمایہ کے بہاؤ پر دباؤ بڑھنے کا امکان معاشی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version