کیتھولگ عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کردی، وہ امریکی انتخابی عمل میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں اور ممکنہ طور پر جمہوری و سیکولر انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بھی ہیں۔
ویٹی کن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پوپ لیو چہار دہم نے امریکی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں اپنا میل اِن بیلٹ جمع کرایا۔ بیان میں کہا گیا کہ پوپ شہریوں کے جمہوری عمل میں حصہ لینے کے حق کے ساتھ ساتھ اسے اپنی ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔
برطانوی مؤرخ اور پوپ کی تاریخ پر متعدد کتابوں کے مصنف مائیکل والش نے بھی اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں اس سے پہلے کسی پوپ نے جمہوری اور سیکولر انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالا۔
ریکارڈ کے مطابق پوپ لیو چہار دہم کا نام ان کے بپتسمے کے نام رابرٹ فرانسس پریوووسٹ کے تحت ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ ان کا ووٹنگ حلقہ شکاگو کے نواحی علاقے نیو لینوکس میں ہے، جہاں ان کے بھائی جان رہائش پذیر ہیں۔
شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ ماضی میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات سمیت 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں بھی ووٹ ڈال چکے ہیں۔
مئی 2025 میں پوپ منتخب ہونے کے بعد سے لیو چہار دہم شہریوں کو جمہوری عمل میں بھرپور شرکت کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ سمیت اہم قومی و عالمی معاملات پر عوام سے اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
پوپ لیو چہار دہم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان ایران جنگ اور امریکا میں تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسیوں پر اختلافات بھی سامنے آچکے ہیں۔ رواں سال ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ پر کھل کر تنقید کی تھی، تاہم حالیہ عرصے میں ان کے بیانات میں نسبتاً نرمی دیکھی گئی ہے۔
پوپ کے بیلٹ میں الینوائے سے امریکی سینیٹ اور گورنر کے انتخاب کے علاوہ ایوان نمائندگان، ریاستی اور مقامی انتخابات کے لیے بھی ووٹ شامل ہونے کی توقع ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پوپ لیو چہار دہم الینوائے کی سیاست میں پہلے بھی دلچسپی لیتے رہے ہیں۔ 2011 میں رابرٹ پریوووسٹ کی حیثیت سے انہوں نے اس وقت کے گورنر پیٹ کوئن کو ذاتی پیغام بھیج کر ریاست میں سزائے موت ختم کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا۔
واضح رہے کہ ویٹی کن کے سربراہ اور سربراہِ مملکت ہونے کے باوجود پوپ لیو چہار دہم امریکی شہری ہیں اور انہیں امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ البتہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ انہوں نے اپنا ووٹ ویٹی کن سے ڈاک کے ذریعے بھیجا یا کسی اور طریقے سے جمع کرایا۔
