Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جاپان کی عظیم دیوار، دیوارِ چین کی جدید شکل یا قدرت سے فاصلہ؟ حقیقت جانیے

شمال مشرقی جاپان میں 11 مارچ 2011 کو آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے ایک دہائی بعد جاپانی حکومت نے قدرتی آفات سے تحفظ کے لیے ایک دیو ہیکل منصوبے کو عملی شکل دی ہے۔

جاپان کے جن ساحلی علاقوں سے سمندر کا پانی شہری علاقوں میں داخل ہوا تھا وہاں ایک عظیم الجثہ دیوار قائم کی گئی ہے جو اب جاپان کی دیوارِ چین کہلائی جا رہی ہے۔

تقریباً 396 کلومیٹر طویل یہ سی وال (Seawall) جاپان کے تین متاثرہ صوبوں ایواتے، میاگی اور فُوکوشیما کو جوڑتی ہے۔ یہ دیوار بعض مقامات پر 15.5 میٹر کی بلندی تک پہنچتی ہے اور اسے 12.74 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔

اس کا مقصد آئندہ کسی سونامی کی صورت میں نہ صرف تباہی کو روکنا بلکہ چند قیمتی لمحے بچانا ہے جو ہزاروں جانوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ 2011 میں، اگر لوگوں کو محض دو منٹ پہلے خطرے کا اندازہ ہو جاتا، تو کئی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔

یہ دیوار نہ صرف حفاظتی ڈھانچے کے طور پر کام کرتی ہے بلکہ جاپان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بھی بن چکی ہے۔ جس طرح قدیم چین نے خود کو بیرونی حملوں سے بچانے کے لیے دیوارِ چین بنائی تھی، اسی طرح جدید جاپان نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے اپنی دیوارِ چین کھڑی کی ہے، مگر اس دیوار کے اثرات صرف سکیورٹی تک محدود نہیں۔

The Great Wall of Japan - ABC News

کئی مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ دیوار ان کے سمندر سے رشتے کو کاٹتی ہے۔ نسلوں سے ماہی گیری اور سمندری تجارت سے وابستہ لوگ کہتے ہیں کہ اب وہ نہ سمندر دیکھ سکتے ہیں، نہ اس کی حرکات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں جو کہ سونامی جیسے خطرات کی بروقت شناخت کے لیے اہم ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کے مطابق دیوار میں موجود چھوٹی بے مقصد کھڑکیاں، ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔

Residents lose coastal vistas to fortress-like tsunami walls | The Asahi Shimbun: Breaking News, Japan News and Analysis

ماحولیاتی ماہرین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، ایک تحقیق کے مطابق یہ دیوار سمندر اور ساحلی زمین کے قدرتی تعلق کو منقطع کر دے گی جس سے نہ صرف زمینی کٹاؤ اور غذائیت کی تقسیم متاثر ہوگی، بلکہ جنگلی حیات کا ساحل تک رسائی بھی ممکن نہیں رہے گی۔

اس سب کے باوجود دیوار ایک حقیقت ہے ایک ایسا پہرہ دار جو ہر روز شمالی جاپان کے لوگوں کی نظروں میں ہے اور جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسان قدرت کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکتا، لیکن اپنی بقا کے لیے حد درجہ کوشش ضرور کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں