Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹیٹو سے مدافعتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ، ویکسین کا اثر بھی کم ہوسکتا ہے

ایک بار جلد کے نیچے ٹیٹو کی سیاہی داخل ہوجائے تو یہ وہیں نہیں رکتی بلکہ مدافعتی نظام کے ساتھ تعامل کرتی ہے۔

جسم پر ٹیٹو بنوانا اب عام بات ہوچکی ہے لیکن اس کے جسمانی اثرات کے بارے میں سائنسدان ابھی تک نئی چیزیں دریافت کررہے ہیں۔ ایک بار جلد کے نیچے ٹیٹو کی سیاہی داخل ہوجائے تو یہ وہیں نہیں رکتی بلکہ مدافعتی نظام کے ساتھ تعامل کرتی ہے۔

ٹیٹو کی سیاہی مختلف کیمیکلز کا مرکب ہے۔ اس میں رنگ، مائع، پرزرویٹوز اور دیگر مادے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے رنگ اصل میں کار کی پینٹ، پلاسٹک اور پرنٹر ٹونر کے لیے بنائے گئے تھے جب کہ انہیں انسانی جلد کے لیے نہیں بنایا گیا۔

ان سیاہیوں میں بھاری دھاتیں (نکل، کرومیم، کوبالٹ، سیسہ) اور نامیاتی مرکبات (آزو ڈائی، پالی سائکلک آرومیٹک ہائیڈرو کاربن) پائے جاتے ہیں جو کینسر اور جینیاتی نقصان سے منسلک ہیں۔

ٹیٹو بنوانے کے بعد جسم کی مدافعتی خلیے سیاہی کے ذرات کو غیر ملکی سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ ذرات بہت بڑے ہوتے ہیں، اس لیے وہ جلد کے خلیوں میں پھنس جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹیٹو مستقل ہوتے ہیں۔

یہ سیاہی جلد تک محدود نہیں رہتی بلکہ لمف نوڈس تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ان کے طویل مدتی اثرات ابھی واضح نہیں۔

حالیہ تحقیق کے مطابق ٹیٹو کی سیاہی مدافعتی نظام کو متحرک کرکے سوزش پیدا کرسکتی ہے اور کچھ ویکسینز جیسے کووڈ 19 کے اثر کو کم کرسکتی ہے۔

سب سے عام خطرات الرجی اور سوزش ہیں۔ سرخ رنگ خاص طور پر خارش، سوجن اور گرینولوما کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ علامات مہینوں یا سالوں بعد بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔

ٹیٹو کے دوران ناقص صفائی سے انفیکشن جیسے اسٹیف، ہیپاٹائٹس بی اور سی کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے ٹیٹو سنگین مسائل پیدا نہیں کرتے لیکن یہ مکمل طور پر بے ضرر بھی نہیں ہیں۔

جیسے جیسے ٹیٹو بڑے، زیادہ اور رنگین ہوتے جائیں گے کیمیکلز کا مجموعی بوجھ بھی بڑھے گا۔ سورج کی روشنی، عمر بڑھنے، مدافعتی تبدیلیوں اور لیزر سے ٹیٹو ہٹانے کے ساتھ مل کر یہ اثرات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔