روس میں ان دنوں ایک انوکھا رجحان کافی مقبولیت حاصل کر رہا ہے جس میں مرد حضرات سرجری کے ذریعے اپنے کانوں کو کولی فلاورایئرز (پھول گوبھی) کی طرح بنوا رہے ہیں جو عام طور پر ایم ایم اے فائٹرز میں دیکھے جاتے ہیں تاکہ دوسروں پر رعب ڈالا جاسکے۔
پھول گوبھی کی طرح پھولے ہوئے کان اصل میں اوریکیولرہیماٹوما کی وجہ سے ہوتے ہیں خیال رہے کہ اوریکیولرہیماٹوما کان کی ایک مشہوراور مستقل جسمانی تبدیلی ہے جو عام طور پر کان پر زوردار ٹکر یا دباؤ کی وجہ سے جنم لیتی ہے جیسے باکسنگ، ایم ایم اے، ریسلنگ یا رگبی جیسے کھیل جس میں براہ راست لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے۔
اس میں کان کے بیرونی حصے پر لگنے والے دھچکے یا شدید دباؤ کے نتیجے میں خون یا دیگر مائع جمع ہو جاتا ہے اور کان کی ہڈی کے ارد گرد ٹشو میں ہیماٹوما بن جاتا ہے پہلے اسے خوبصورتی کے لحاظ سے غیر دلکش سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ ایک مقبول فیچر بن چکا ہے۔
مقبول ٹیلیگرام چینل بزا نے رپورٹ کیا ہے کہ روس کے بڑھتے ہوئے نوجوان اس پروسیجر کے لیے پیسے خرچ کر رہے ہیں تاکہ وہ دوسرے مردوں میں خوف پیدا کر سکیں یہ پروسیجر جنوبی روس میں سب سے زیادہ مقبول ہے لیکن وسطی روس کے مرد بھی اسے کروا رہے ہیں۔

روس میں جو شخص اس پروسیجر کی سہولت فراہم کررہا اس کے مطابق یہ سرجری اتنی مقبول ہو چکی ہیں کہ وہ ایک ماہ کے لیے مکمل بک ہو چکا ہےاور ہر کان کے لیے وہ 6000 روبل یعنی تقریباً 80 ڈالر چارج کرتا ہے اور اگراس کے کلائنٹس زیادہ متاثر کن نظر چاہتے ہیں تو اس کے لیےکئی سیشنز درکار ہوتے ہیں تاکہ اصل فائٹر یا ریسلر جیسا اثر پیدا کیا جاسکے۔
ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ پروسیجر غیر تربیت یافتہ افراد سے کروایا جائے تو کان کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ ہڈیوں میں سوزش کےعلاوہ ہیماٹوما کی شکل میں انفیکشن پیدا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ایم 24 سے کہا کہ اگر پروسیجر کروانے والے میں حقیقی ایم ایم اے فائٹر جیسا اعتماد نہ ہو تو یہ بالکل بے فائدہ ہے۔




















