شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران اور عراق کے پانچ بڑے شہروں میں ادا کی جائیں گی جن کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق 4 جولائی بروز ہفتے کے روز تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں عوام کو آخری دیدار کا موقع فراہم کیا جائے گا جبکہ پیر کو دارالحکومت تہران میں مرکزی جنازے کا جلوس نکالا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی جنازے کے بعد میت کو قم سے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا منتقل کیا جائے گا جبکہ 9 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی اپنے آبائی شہر مشہد میں تدفین کی جائے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق تعزیتی تقریبات اور جنازے میں ڈیڑھ سے 2 کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے جس کے پیش نظر ملک بھر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ روس، چین، پاکستان سمیت 30 سے زائد ممالک کے اعلیٰ حکام اور 90 ممالک کے مذہبی رہنماؤں کی جنازے میں شرکت متوقع ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا کے مطابق غیر ملکی وفود اور مذہبی شخصیات کی آمد کے پیش نظر بری، بحری اور فضائی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی سرحدوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، بری، بحری اور فضائی گشت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ فضائی دفاعی نظام مسلسل ایرانی فضائی حدود کی نگرانی کر رہا ہے۔




















